میں اس عظیم الشان اجتماع کے انعقاد پر جمعیت علماء اسلام بلوچستان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ان شاء اللہ یہ جدوجہد مزید قوت اور استقامت کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب آگے بڑھے گی۔
#تحفظ_مدارس_حقوق_بلوچستان
عوام کی بے مثال شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ دینی مدارس کے تحفظ، آئینی حقوق اور عوامی مسائل کے حل کے لئے جمعیت علماء اسلام کی جدوجہد عوام کے دلوں کی آواز ہے۔
پشین میں تحفظِ مدارس و حقوقِ بلوچستان کانفرنس کے کامیاب، تاریخ ساز اور فقید المثال انعقاد پر جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی پوری قیادت، کارکنان اور منتظمین خصوصا پشین کے غیور مسلمان خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
اس وقت ہمارا ملک جس گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے اسے ہمیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بد امنی عروج پر ہے، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صورت حال بغاوت کی ہے، ریاست کے خلاف محدود سطح پر لیکن بہرحال بندوق اٹھائی گئی ہے، کوئی علیحدگی کی باتیں کر رہا ہے، کوئی بزور شمشیر شریعت کی باتیں
آئین ایک میثاق ملی ہے، ہمارے ملک کے اندر چار صوبے ہیں اگر گلگت بلتستان کو صوبے کی حیثیت دی جائے تو پانچ صوبے ہیں اور ہر صوبہ کثیر القومیت ہے، پورا ملک کثیر القومیت ہے، ہم لوگوں کے حقوق، اس کے آئینی حقوق، اس کے معاشی حقوق، اس کے سیاسی اور جمہوری حقوق، اس کے انسانی حقوق، وہ ہماری
آمرانہ اور جمہوری حکومتوں کا موازنہ
زیادہ خرابیاں جمہوری دور حکومت کی پیداوار یا آمرانہ طرز حکومت کی ۔
صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا دلچسپ موازنہ
صحافی:جس دن مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری ایک میز پر بیٹھے تو اٹھارویں ترمیم وجود میں آئی اور 1973 کا چہرہ بحال ہو گیا۔ آج میں آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو دائیں اور بائیں کی سیاست کو پاکستان کے مفادات سے لاتعلق دیکھ رہا ہوں۔ ایسا کیا ہوا کہ جو یہ دو شخص مل کر
ہم خون کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ہمارے کتنے کارکن، کتنے عہدیداران اور جید علماء کرام نشانہ بنے۔ کس گناہ پر؟ انہوں نے کون سا گناہ کیا تھا؟
اگر کسی دوسری جماعت کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو ہم وہاں بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ لیکن جمعیت علماء اسلام کا گناہ بتا
جمعیت علماء اسلام پاکستان میں قومی یکجہتی کی علمبردار جماعت ہے۔ ہم مسلمان بھی ہیں، ہم ایک عقیدہ بھی رکھتے ہیں، مگر تعصب اور نفرت کے قائل نہیں ہیں۔ ہم اختلاف بھی شائستگی سے کرتے ہیں۔ ہم نفرتوں کی سیاست اٹھاتے نہیں ہے،نفرتوں کو دفن کرتے ہیں،ہم پاکستان میں شدت کی سیاست نہیں کررہے،ہم
مجھے احساس ہے اس بات کا کہ وہ بھی میرا خون ہے۔ چند ہفتے پہلے وانا میں آپ کے پورے قلعے کو اڑا دیا گیا، جس میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے۔
کل بنوں میں ہونے والے ایک حملے نے پورے پولیس اسٹیشن کو اڑا دیا۔ جتنے بھی وہاں سپاہی تھے، وہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اور آج تمام شہر اور علاقے کے
آج پوری دنیا میں،حکمران میاں شہباز صاحب کو نہیں سمجھا جا رہا، ملک میں بھی اور ملک سے باہر بھی۔ وزیراعظم ہیں لیکن اس کام کے لیے ہیں کہ جیسے آج پتہ نہیں ایک سو قانون سازیاں بیک وقت ہو گئیں۔ جب چاہیں آپ قانون سازیاں کرائیں، جب چاہیں آپ چھبیسویں ترمیم لے آئیں، جب چاہیں آپ ستائیسویں