Published in Binnori Town Majalla: For English Version, see: The Dazzle of Western Knowledge.
خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
اس مضمون کا عنوان علامہ اقبالؒ کے مذکورہ بالا شعر سے مستعار ہے، جس سے اُمت کو درپیش ایک اہم بنیادی مسئلہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے اور وہ مغربی علوم سے مرعوبیت کا مسئلہ ہے۔ اس وقت اُمت مغربی علوم سے اتنا متاثر و مرعوب ہو چکی ہے کہ اپنی موجودہ پستی کا علاج بھی انہی علوم میں ڈھونڈ رہی ہے اور اس کے نتیجے میں یہ بات نظروں سے اوجھل ہو چکی ہے کہ وہ قرآنی علوم ہی تھے، جن کی بدولت زمانۂ جاہلیت کے پسماندہ اور دیہاتی مزاج بدو دنیا میں علمی سطح کی معراج پر پہنچ گئے تھے۔
اس مضمون میں ہم یہ واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح مغرب نے اپنے ایک مخصوص علمی نظام کے ذریعے انسانیت کو دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور یہ نظام کیسے انسانیت کے لیے حقیقت میں مضر ہے، مگر اس کا لوگوں کو ادراک ہی نہیں۔ نیز اس نظام کو رائج کرنے کے لیے کس طرح مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں ایک طرف انسانیت کو مغربی علوم کی افادیت پر یقینِ کامل ہوگیا تو دوسری طرف خود مسلمانوں نے بھی اسلامی علمی نظام سے -جو مغرب سے یکسر مختلف ہے- عملی طور پر صرفِ نظر کر لیا اور اسے دنیوی مسائل کے لیے غیر متعلق سمجھنے لگے۔ سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام میں علم کا کیا مقام ہے۔

