جلوۂ دانشِ فرنگ (مغرب سے مرعوبیت)

Published in Binnori Town Majalla: For English Version, see: The Dazzle of Western Knowledge.

خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

اس مضمون کا عنوان علامہ اقبالؒ کے مذکورہ بالا شعر سے مستعار ہے، جس سے اُمت کو درپیش ایک اہم بنیادی مسئلہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے اور وہ مغربی علوم سے مرعوبیت کا مسئلہ ہے۔ اس وقت اُمت مغربی علوم سے اتنا متاثر و مرعوب ہو چکی ہے کہ اپنی موجودہ پستی کا علاج بھی انہی علوم میں ڈھونڈ رہی ہے اور اس کے نتیجے میں یہ بات نظروں سے اوجھل ہو چکی ہے کہ وہ قرآنی علوم ہی تھے، جن کی بدولت زمانۂ جاہلیت کے پسماندہ اور دیہاتی مزاج بدو دنیا میں علمی سطح کی معراج پر پہنچ گئے تھے۔ 
اس مضمون میں ہم یہ واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح مغرب نے اپنے ایک مخصوص علمی نظام کے ذریعے انسانیت کو دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور یہ نظام کیسے انسانیت کے لیے حقیقت میں مضر ہے، مگر اس کا لوگوں کو ادراک ہی نہیں۔ نیز اس نظام کو رائج کرنے کے لیے کس طرح مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں ایک طرف انسانیت کو مغربی علوم کی افادیت پر یقینِ کامل ہوگیا تو دوسری طرف خود مسلمانوں نے بھی اسلامی علمی نظام سے -جو مغرب سے یکسر مختلف ہے- عملی طور پر صرفِ نظر کر لیا اور اسے دنیوی مسائل کے لیے غیر متعلق سمجھنے لگے۔ سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام میں علم کا کیا مقام ہے۔ 

"جلوۂ دانشِ فرنگ (مغرب سے مرعوبیت)” پڑھنا جاری رکھیں

معاشیات کی نصابی کتابوں کے تین دھوکے

[bit.ly/URcecp4} اس گفتگو میں، ہم وضاحت کرتے ہیں کہ کس طرح معاشیات کی نصابی کتابوں کے بنیادی نظریات سرمایہ داری کی حمایت اور دفاع کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان نظریات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو لوگ ان نظریات کو سیکھتے ہیں وہ ہمارے معاشی مسائل کو دیکھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں، حل تلاش کرنے کو چھوڑ دیں۔

English Version: http://bit.ly/AZcecp4

Powerpoint Slides for this talk are attached below.

غلامانہ ذہنیت

پاکستان کا موجودہ معاشی بحران اور اس کا حل کل اسلامی تناظر میں

 اپہلے حصے کا نام ہے اقتصادی بحران اور اس کا حل اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہمارے مسئلہ آسان ہے اور اس کا حل بھی آسان ہے

اقتصادی بحران اوراس کا حل

دوسرے حصے کا نام ہے معاشی نظریات زہر قاتل اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے معاشیات کی تعلیم دی جاتی ہے یہ ہمیں مسئلہ کو سمجھنے اور اس کا حل ڈھونڈنے سے قاصر کر دیتی ہے

جدید معاشی نظریات: زہر قاتل

یہ تیسرا حصہ ہے جس کا نام ہے غلامانہ ذہنیت

اس تیسرے حصے میں آبادی نہ آبادیاتی نظام کی تاریخ بتائی گئی ہے جس کے ذریعے سے ہمارے اندر غلامانی غلامانہ ذہنیت پیدا کی گئی اور جب تک ہم سب غلامانہ ذہنیت سے آزاد کو حل نہیں کر سکیں گے غلامانہ ذہنیت پیدا کرنے میں مغربی تعلیم کا ایک بہت بڑا کردار ہے اور اس کا متبادل پیدا کرنا اس وقت امت کی بہت بڑی ضرورت ہے ہے

The Urdu Powerpoint Slides for the video are attached below. For the English Version, see: http://bit.ly/AZcecp3

اقتصادی بحران اوراس کا حل

bit.ly/URcecp1 – For English Version, see: http://bit.ly/AZcecp1 Complete ORIGINAL talk in URDU: https://www.youtube.com/watch?v=KXLsUhGCqjc

اضافی وضاحت کے لئے اس گفتگو کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ ذیل میں منسلک ہے:

دوسرے حصے کے لئے دیکھیں:جدید معاشی نظریات: زہر قاتل

مغربی تعلیم کے متبادل پیدا کرنا

Creating Alternatives to Western Education – For English Slides which provide an outline of the talk, see: http://bit.ly/SSmaju23

ایک مغربی تعلیم یورپی نقطہ نظرکو جنم دیتا ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ تمام قیمتی علم مغرب نے پچھلی تین صدیوں میں تخلیق کیا ہے۔ مزید یہ کہ قرآن و حدیث اور اسلامی فکری روایت جدید دنیا میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ یہ خیالات جان لیوا طورپرغلط ہیں، اور براہِ راست اسلام کے پیغام سے متصادم ہیں، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بنی نوع انسان کے لیے خدا کا آخری پیغام انسانیت کو دیا گیا سب سے قیمتی علم ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، ہمیں یورپی نقطہ نظر کے نقائص کو پہچاننے کی ضرورت ہے، اور اسلامی بنیادوں پر مغربی علم کے تمام ذخیرے کو از سر نو تعمیر کرنا ہوگا۔ خاص طور پر مغربی تعلیم کا اسلامی متبادل بنانا ناگزیر ہے۔

اسلامی تناظر میں سماجی علوم کا مطالعہ

🌹 الحکمہ انٹرنیشنل شعبہ دعوت وتبلیغ کے زیر اہتمام 🌹
🌲 اہل علم ودانش اور فاضلین علوم اسلامیہ کے لیے منفرد نوعیت کی ورکشاپ 🌲
بعنوان
🌼 سوشل سائنسز کا اسلامی تناظر میں مطالعہ 🌼
A Study of Social Sciences in Islamic Perspective

🎤 اسپیکر 🎤
🌷 ڈاکٹر اسعد زمان 🌷
Ex. Vice Chancellor (PIDE)
Pakistan Institute of Development Economics

⬅️ :بتاریخ
16 نومبر بروز بدھ بعد نماز مغرب

🔺 بمقام 🔺
5D.1 ٹاؤن شپ ، پائپ سٹاپ ہمدرد چوک، مادر ملت روڈ لاہور

💫 الحکمة انٹرنیشنل لاہور پاکستان، زندگی شعور سے۔“.

یورپ میں ایک صدی کی مذہبی جنگوں کے بعد سماجی علوم کی تخلیق ہوئی جس نے یورپیوں کو یہ ثابت کر دیا کہ مذہب معاشرے کو منظم کرنے کے قابل عمل طریقے پیش نہیں کرتا۔ خدا، فیصلے، اور بعد کی زندگی کو مسترد کرنے کے نتیجے میں سماجی علوم کی بنیاد ان مفروضوں پر ہے کہ انسان صرف ایک اور جانور ہے، جس کا مقصد لذت کا حصول ہے۔ مزید برآں، معاشرہ مسابقتی گروہوں پر مشتمل ہوتا ہے جو سب کے خلاف سب کی جنگ کے ماحول میں کام کرتے ہیں، جس میں سب سے موزوں کی بقا ہی واحد اخلاقی اصول ہے۔ ظاہر ہے کہ معاشرے کا یہ تصور اسلامی تصور سے یکسر مختلف ہے۔ اسلامی فکری ورثہ معاشرے کی تعمیر کے لیے مختلف طریقے اور نظریاتی فریم ورک پیش کرتا ہے۔

Same video on my Channel: Social Sciences in Islamic Perspective. Another talk on same topic in Bhawalpur: https://youtu.be/NfJqX-oeVo4

Deception of Economics: معاشیات کے فریب

{http://bit.ly/UrduDoE}

مغربی معاشیات خاص طور پر مغربی سیاسی، سماجی اور اقتصادی اداروں کے اندر یورپی معاشروں میں صنعتی انقلاب کے بعد ابھرنے والے مسائل کا تجزیہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ لیکن یہ تمام معاشروں پر عالمگیر طور پر قابل اطلاق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ ہمیں مغربی اقتصادیات کو رد کرنا چاہیے اور اسلامی بنیادوں پر اپنے معاشی نظریہ کو از سر نو استوار کرنا چاہیے۔

The Deception of Economics

This Talk is also available as an ANCHOR podcast. Click on Image below to access the podcast. An English outline of the talk (pptx slides) can be accessed from the following link "The Ghazalian Webinars” (shortlink: http://bit.ly/AZwebinars)

https://anchor.fm/asad-zaman2/episodes/Economics-2-e1ho9sf

Countering Atheism-الحاد کی جڑ:مغربی علوم کا دھوکہ

ڈاکٹر اسعد زمان صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ

"ادارہ علومِ اسلامی” میں نئے فضلاء کو دیا گیا لیکچر

۳۰ رجب ، ۱۴۴۳ مطابق ۵ مارچ ، ۲۰۲۲ (Central Listing & English Versions)

تعارفی کلمات

مدرسے میں اس قسم کے پروگرامز کا مقصد: نئے فاضلین کی معاصر اہلِ علم سے شناسائی  جو مختلف یونیورسٹیز میں اپنی علمیت کا لوہا منوا چکے ہیں

میری کارگزاری

مغرب کی بہترین یونیورسٹی میں تعلیم و تعلم

"Countering Atheism-الحاد کی جڑ:مغربی علوم کا دھوکہ” پڑھنا جاری رکھیں

الحاد سے مقابلہ کے لیے جدید علم الکلام کی ضرورت

{bit.ly/3SN94sE}
 میں نے دارالعلوم کراچی 22 صفر، 1438ھ (22 نومبر 2016) کو، میں الحاد کے لیے نئے دلائل کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا علم الکلام تیار کرنے
 کی ضرورت پر ایک تقریر کی

     میں نے دارالعلوم کراچی 22 صفر، 1438ھ (22 نومبر 2016) کو، میں الحاد کے لیے نئے دلائل کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا علم الکلام تیار کرنے کی ضرورت پر ایک تقریر کی

الحاد سے مقابلہ کے لیے جدید علم الکلام کی ضرورت

ج، خدا کے وجود کے خلاف دلائل جارحانہ انداز میں پیش کیے جا رہے ہیں، اور یہ مغربی فلسفہ اور تعلیم کا ایک اہم عنصر ہے۔

مغربی تعلیم کے عالمی غلبے کی وجہ سے الحاد کے دلائل پوری دنیا کے مسلمان طلباء کے ذہنوں اور دلوں تک پہنچ رہے ہیں۔

الحاد کے ان نئے دلائل کو سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا علم الکلام تشکیل دینا علمائے کرام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

Audio Files and brief comments in English available from: Countering Arguments for Atheism

تحریری مضمون کے لیے دیکھیں