شکوہ
ہم نے بہت کچھ کیا، اب کیا کریں؟
اللہ سے شکوہ کریں، دل کیا کریں؟
ہم نے جہاد کیا، توقیر پائی
اب ہم پر کیوں ہوتی ہے تکلیف؟
تاریخ میں ہم نے کامیابی حاصل کی
اب ہمارے لئے کیوں نہیں ہے عزت؟
ہم نے تو کچھ نہ کچھ کامیابی پائی
کیوں ہمارا نام روشن نہیں ہوتا؟
ہم نے جنگ میں بھی اپنا کردار نبھایا
کیوں ہماری قدر نہیں ہوتی؟
ہم نے ایمان کی بنیاد پر کچھ کیا
کیوں اللہ ہم سے راضی نہیں؟
کیوں ہم پر روز یہ ظلم ہوتا
کیوں اللہ ہم سے محبت نہ کرتا؟
اس دنیا میں ہم نے بہت کچھ کیا
کیوں اللہ سے پھر بھی شکوہ ہے؟
اے اللہ! ہم نے تو خودی کو پہچانا
کیوں تو ہمیں پھر بھی عزت نہ دے؟
ہم نے ایمان، حسین، شجاعت دکھائی
کیوں ہمیں پھر بھی کچھ نہ ملتا؟
اب تو اللہ کے دربار میں جا کر
اپنا شکوہ رکھیں، دل کیا کریں ؟
کیوں ہمیں محبت نہ ملتی؟
اللہ کے قریب جا کر شکوہ کریں
ہم نے دعاویں بھی کئے اور کرتے رہیں
کیوں ہماری دعا کبھی سنی نہ جاتی؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر کام کئے ایمان کے ساتھ
کیوں تو ہمیں عزت کے مقام تک نہ پہنچاتا؟
جواب دے، اے اللہ، ہمارے دل کے جذبات کا
کیوں ہماری خواہشوں کا کچھ حساب نہیں؟
ہم نے تو یقین کیا، محبت بھی کی
کیوں ہمیں پھر بھی روشن راہ نہ ملتی؟
ہم نے اپنا کردار بھی نبھایا
کیوں ہماری فلاح اور کامیابی نہیں؟
ہم نے دنیا کو دیکھا، سب کچھ سمجھا
کیوں ہمیں پھر بھی اللہ کا سکون نہ ملتا؟
ایمان کی روشنی سے ہم نے راہ پکڑی
کیوں ہمیں پھر بھی کامیابی کا دروازہ نہ کھلتا؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر وقت تیری عبادت کی
کیوں ہمیں پھر بھی توفیق نہ ملتی؟
اب تو بتا، اے اللہ، ہم کیا کریں؟
کیوں ہماری کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی؟
ہم نے سب کچھ کیا، ایمان کے ساتھ
کیوں ہمیں پھر بھی نصیب میں نہیں خوشی؟
جواب دے، اے اللہ، ہمارے درد کا
کیوں ہماری عبادت کا کچھ اثر نہیں؟
ہم نے دنیا میں اپنا کام کیا
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی تسکین؟
ایمان کی باتیں، محبت کے کام
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی کامیابی؟
ہم نے کئی بار تو جواب مانگا
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی توفیق؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر وقت تیرا شکر کیا
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی رحمت؟
اب تو بتا، اے اللہ، ہم کیا کریں؟
کیوں ہمیں عزت اور خوشی نہ ملتی؟
ہم نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کیا
کیوں ہماری دعاویں پھر بھی نہ سنی؟
ایمان کے ساتھ چلتے رہے ہم
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی کامیابی؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر کام کیا تیرے لئے
کیوں ہماری زندگی میں پھر بھی عزت نہ ملتی؟
اب تو بتا، اے اللہ، ہم کیا کریں؟
کیوں ہماری کوئی خواہش پوری نہ ہوتی؟
ہم نے بہت کچھ کیا، اب کیا کریں؟
اللہ سے شکوہ کریں، دل کیا کریں؟
ہم نے جہاد کیا، توقیر پائی
اب ہم پر کیوں ہوتی ہے تکلیف؟
تاریخ میں ہم نے کامیابی حاصل کی
اب ہمارے لئے کیوں نہیں ہے عزت؟
ہم نے تو کچھ نہ کچھ کامیابی پائی
کیوں ہمارا نام روشن نہیں ہوتا؟
ہم نے جنگ میں بھی اپنا کردار نبھایا
کیوں ہماری قدر نہیں ہوتی؟
ہم نے ایمان کی بنیاد پر کچھ کیا
کیوں اللہ ہم سے راضی نہیں؟
کیوں ہم پر روز یہ ظلم ہوتا
کیوں اللہ ہم سے محبت نہ کرتا؟
اس دنیا میں ہم نے بہت کچھ کیا
کیوں اللہ سے پھر بھی شکوہ ہے؟
اے اللہ! ہم نے تو خودی کو پہچانا
کیوں تو ہمیں پھر بھی عزت نہ دے؟
ہم نے ایمان، حسین، شجاعت دکھائی
کیوں ہمیں پھر بھی کچھ نہ ملتا؟
اب تو اللہ کے دربار میں جا کر
اپنا شکوہ رکھیں، دل کیا کریں ؟
کیوں ہمیں محبت نہ ملتی؟
اللہ کے قریب جا کر شکوہ کریں
ہم نے دعاویں بھی کئے اور کرتے رہیں
کیوں ہماری دعا کبھی سنی نہ جاتی؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر کام کئے ایمان کے ساتھ
کیوں تو ہمیں عزت کے مقام تک نہ پہنچاتا؟
جواب دے، اے اللہ، ہمارے دل کے جذبات کا
کیوں ہماری خواہشوں کا کچھ حساب نہیں؟
ہم نے تو یقین کیا، محبت بھی کی
کیوں ہمیں پھر بھی روشن راہ نہ ملتی؟
ہم نے اپنا کردار بھی نبھایا
کیوں ہماری فلاح اور کامیابی نہیں؟
ہم نے دنیا کو دیکھا، سب کچھ سمجھا
کیوں ہمیں پھر بھی اللہ کا سکون نہ ملتا؟
ایمان کی روشنی سے ہم نے راہ پکڑی
کیوں ہمیں پھر بھی کامیابی کا دروازہ نہ کھلتا؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر وقت تیری عبادت کی
کیوں ہمیں پھر بھی توفیق نہ ملتی؟
اب تو بتا، اے اللہ، ہم کیا کریں؟
کیوں ہماری کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی؟
ہم نے سب کچھ کیا، ایمان کے ساتھ
کیوں ہمیں پھر بھی نصیب میں نہیں خوشی؟
جواب دے، اے اللہ، ہمارے درد کا
کیوں ہماری عبادت کا کچھ اثر نہیں؟
ہم نے دنیا میں اپنا کام کیا
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی تسکین؟
ایمان کی باتیں، محبت کے کام
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی کامیابی؟
ہم نے کئی بار تو جواب مانگا
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی توفیق؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر وقت تیرا شکر کیا
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی رحمت؟
اب تو بتا، اے اللہ، ہم کیا کریں؟
کیوں ہمیں عزت اور خوشی نہ ملتی؟
ہم نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کیا
کیوں ہماری دعاویں پھر بھی نہ سنی؟
ایمان کے ساتھ چلتے رہے ہم
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی کامیابی؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر کام کیا تیرے لئے
کیوں ہماری زندگی میں پھر بھی عزت نہ ملتی؟
اب تو بتا، اے اللہ، ہم کیا کریں؟
کیوں ہماری کوئی خواہش پوری نہ ہوتی؟
شکوہ
ہم نے بہت کچھ کیا، اب کیا کریں؟
اللہ سے شکوہ کریں، دل کیا کریں؟
ہم نے جہاد کیا، توقیر پائی
اب ہم پر کیوں ہوتی ہے تکلیف؟
تاریخ میں ہم نے کامیابی حاصل کی
اب ہمارے لئے کیوں نہیں ہے عزت؟
ہم نے تو کچھ نہ کچھ کامیابی پائی
کیوں ہمارا نام روشن نہیں ہوتا؟
ہم نے جنگ میں بھی اپنا کردار نبھایا
کیوں ہماری قدر نہیں ہوتی؟
ہم نے ایمان کی بنیاد پر کچھ کیا
کیوں اللہ ہم سے راضی نہیں؟
کیوں ہم پر روز یہ ظلم ہوتا
کیوں اللہ ہم سے محبت نہ کرتا؟
اس دنیا میں ہم نے بہت کچھ کیا
کیوں اللہ سے پھر بھی شکوہ ہے؟
اے اللہ! ہم نے تو خودی کو پہچانا
کیوں تو ہمیں پھر بھی عزت نہ دے؟
ہم نے ایمان، حسین، شجاعت دکھائی
کیوں ہمیں پھر بھی کچھ نہ ملتا؟
اب تو اللہ کے دربار میں جا کر
اپنا شکوہ رکھیں، دل کیا کریں ؟
کیوں ہمیں محبت نہ ملتی؟
اللہ کے قریب جا کر شکوہ کریں
ہم نے دعاویں بھی کئے اور کرتے رہیں
کیوں ہماری دعا کبھی سنی نہ جاتی؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر کام کئے ایمان کے ساتھ
کیوں تو ہمیں عزت کے مقام تک نہ پہنچاتا؟
جواب دے، اے اللہ، ہمارے دل کے جذبات کا
کیوں ہماری خواہشوں کا کچھ حساب نہیں؟
ہم نے تو یقین کیا، محبت بھی کی
کیوں ہمیں پھر بھی روشن راہ نہ ملتی؟
ہم نے اپنا کردار بھی نبھایا
کیوں ہماری فلاح اور کامیابی نہیں؟
ہم نے دنیا کو دیکھا، سب کچھ سمجھا
کیوں ہمیں پھر بھی اللہ کا سکون نہ ملتا؟
ایمان کی روشنی سے ہم نے راہ پکڑی
کیوں ہمیں پھر بھی کامیابی کا دروازہ نہ کھلتا؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر وقت تیری عبادت کی
کیوں ہمیں پھر بھی توفیق نہ ملتی؟
اب تو بتا، اے اللہ، ہم کیا کریں؟
کیوں ہماری کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی؟
ہم نے سب کچھ کیا، ایمان کے ساتھ
کیوں ہمیں پھر بھی نصیب میں نہیں خوشی؟
جواب دے، اے اللہ، ہمارے درد کا
کیوں ہماری عبادت کا کچھ اثر نہیں؟
ہم نے دنیا میں اپنا کام کیا
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی تسکین؟
ایمان کی باتیں، محبت کے کام
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی کامیابی؟
ہم نے کئی بار تو جواب مانگا
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی توفیق؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر وقت تیرا شکر کیا
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی رحمت؟
اب تو بتا، اے اللہ، ہم کیا کریں؟
کیوں ہمیں عزت اور خوشی نہ ملتی؟
ہم نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کیا
کیوں ہماری دعاویں پھر بھی نہ سنی؟
ایمان کے ساتھ چلتے رہے ہم
کیوں ہمیں پھر بھی نہیں ملتی کامیابی؟
اے اللہ! ہم نے تو ہر کام کیا تیرے لئے
کیوں ہماری زندگی میں پھر بھی عزت نہ ملتی؟
اب تو بتا، اے اللہ، ہم کیا کریں؟
کیوں ہماری کوئی خواہش پوری نہ ہوتی؟
0 Comments
0 Shares
30 Views