حضرت ابو الدرداءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“رزق کو تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے موت کو تلاش کرنا۔ اگر انسان کو موت اس کے وقت پر آ کر ملتی ہے، تو رزق بھی اس کے نصیب میں لکھا ہوا وقت پر اسے مل کر رہے گا۔”
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح موت مقررہ وقت پر آ کر انسان کو ملتی ہے، اسی طرح رزق بھی اللہ کی طرف سے مقررہ وقت پر انسان تک پہنچتا ہے۔ انسان کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور جائز طریقوں سے رزق حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان رزق کے لیے کوشش چھوڑ دے، بلکہ یہ کہ انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اس کا رزق مقرر کیا ہوا ہے، اور وہ اسے مل کر رہے گا۔
“رزق کو تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے موت کو تلاش کرنا۔ اگر انسان کو موت اس کے وقت پر آ کر ملتی ہے، تو رزق بھی اس کے نصیب میں لکھا ہوا وقت پر اسے مل کر رہے گا۔”
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح موت مقررہ وقت پر آ کر انسان کو ملتی ہے، اسی طرح رزق بھی اللہ کی طرف سے مقررہ وقت پر انسان تک پہنچتا ہے۔ انسان کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور جائز طریقوں سے رزق حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان رزق کے لیے کوشش چھوڑ دے، بلکہ یہ کہ انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اس کا رزق مقرر کیا ہوا ہے، اور وہ اسے مل کر رہے گا۔
حضرت ابو الدرداءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“رزق کو تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے موت کو تلاش کرنا۔ اگر انسان کو موت اس کے وقت پر آ کر ملتی ہے، تو رزق بھی اس کے نصیب میں لکھا ہوا وقت پر اسے مل کر رہے گا۔”
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح موت مقررہ وقت پر آ کر انسان کو ملتی ہے، اسی طرح رزق بھی اللہ کی طرف سے مقررہ وقت پر انسان تک پہنچتا ہے۔ انسان کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور جائز طریقوں سے رزق حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان رزق کے لیے کوشش چھوڑ دے، بلکہ یہ کہ انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اس کا رزق مقرر کیا ہوا ہے، اور وہ اسے مل کر رہے گا۔
0 Comments
0 Shares
5 Views