خدمت کے نام پر دعوے، حقیقت میں خاموشی
آج بہت سی این جی اوز، بااثر مسیحی شخصیات اور صاحبِ حیثیت افراد پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتے ہیں
کہ ہم مظلوم مسیحیوں، قیدیوں اور اسائلم سیکرز کے ساتھ کھڑے ہیں،
ہم پرسیکیوٹڈ مسیحیوں کے لیے کام کر رہے ہیں،
ہم خدمت کر رہے ہیں۔
لیکن اصل سوال یہ ہے
کہ کیا یہ سب حقیقت میں بھی ویسا ہی ہے
جیسا بتایا اور دکھایا جاتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ
جو مسیحی واقعی ایمان کی وجہ سے ظلم، قید، جلاوطنی، تشدد اور شدید محرومی کا شکار ہوئے،
جن کے پاس نہ پیسہ ہے،
نہ تعلقات،
نہ کسی بااثر شخص تک رسائی—
وہی سب سے زیادہ نظر انداز ہیں۔
اس کے برعکس،
جہاں فنڈز موجود ہوں،
جہاں ذاتی تعلقات ہوں،
جہاں فائدہ نظر آتا ہو،
وہاں فائلیں بھی چلتی ہیں،
پراجیکٹس بھی بنتے ہیں،
اور کامیابی کی تصویریں بھی دکھائی جاتی ہیں۔
یہ صرف انتظامی یا وقتی مسئلہ نہیں،
یہ ایک سنجیدہ روحانی مسئلہ ہے۔
مسیحی تعلیم ہمیں یہ نہیں سکھاتی
کہ محبت اور خدمت کا معیار وسائل، شہرت یا رسائی سے طے کیا جائے۔
خداوند یسوع مسیح تو یہاں تک سکھاتا ہے
کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو
اور اپنے ستانے والوں کے لیے دعا کرو۔
اگر مسیح اپنے پرسیکیوٹر سے محبت کا حکم دیتا ہے،
تو پھر مسیح کے لیے دکھ اٹھانے والوں،
وہ قیدی جو ایمان کی وجہ سے زنجیروں میں ہیں،
رہے ہیں یا زنجیروں میں تھے—
ان سے بے توجہی
کسی بھی مسیحی معیار پر پوری نہیں اترتی۔
بائبل ہمیں صاف اور واضح طور پر سکھاتی ہے
کہ قیدیوں کو اس طرح یاد رکھو
جیسے تم خود بھی ان کے ساتھ قید میں ہو،
اور جو ظلم اور بدسلوکی سہتے ہیں
انہیں یوں سمجھو
جیسے وہ سب کچھ تمہارے اپنے جسم پر ہو رہا ہو،
کیونکہ تم بھی جسم رکھتے ہو۔
یہ صرف ہمدردی کی بات نہیں،
یہ زندہ ایمان، عملی محبت
اور قربانی کا تقاضا ہے۔
اور ایک حقیقت یہ بھی ہے
جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے:
مسیح کے لیے قید کاٹنے والوں کی دعا
عام دعا نہیں ہوتی۔
وہ دعا زنجیروں، کوڑوں، بھوک، تنہائی اور وفاداری سے گزری ہوتی ہے،
اور اسی لیے اس کا روحانی وزن
اکثر آزاد اور محفوظ لوگوں کی دعاؤں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
رسول پولس قید میں رہتے ہوئے
کلیسیا سے یہ نہیں کہتا
کہ صرف میری مدد کرو،
بلکہ یہ کہتا ہے
کہ میرے لیے دعا کرو،
تاکہ خدا کا کلام
اور زیادہ دلیری کے ساتھ پھیلے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے
کہ جو مسیح کے لیے دکھ اٹھا چکے ہیں
وہ کمزور نہیں،
بلکہ روحانی جنگ کے تجربہ کار گواہ ہیں۔
اس کے باوجود
اگر این جی اوز،
اگر امیر اور بااثر مسیحی شخصیات،
اگر وہ لوگ جو خود کو خدمت کا نمائندہ کہتے ہیں،
ان قیدیوں، ان اسائلم سیکرز
اور ان مظلوم مسیحیوں کو نظر انداز کریں
جنہوں نے ایمان کی قیمت ادا کی ہے،
تو پھر خاموش رہنا بھی بے وفائی بن جاتا ہے۔
خداوند یسوع نے ہمیں پہلے ہی خبردار کیا تھا
کہ زمین پر اپنے لیے خزانے جمع نہ کرو،
بلکہ آسمان پر خزانے جمع کرو۔
جب خدمت کے نام پر
فنڈز بڑھتے جائیں،
تنظیمیں مضبوط ہوتی جائیں،
پراجیکٹس اور سہولتیں بڑھتی جائیں،
مگر مظلوم مسیحی ویسے ہی تنہا، خاموش اور بے سہارا رہیں،
تو یہ خدمت نہیں رہتی—
یہ ایک ایسا نظام بن جاتا ہے
جس میں سب کچھ ہوتا ہے
سوائے مسیح کے دل کے۔
خداوند یسوع خود کو قیدی، بھوکے، ننگے اور مظلوم کے ساتھ جوڑتا ہے
اور کہتا ہے
کہ میں قید میں تھا اور تم میرے پاس آئے۔
اور پھر وہ ایک سخت مگر سچا معیار رکھتا ہے
کہ جو کچھ تم نے سب سے چھوٹوں میں سے ایک کے ساتھ نہیں کیا،
وہ میرے ساتھ بھی نہیں کیا۔
اب چند ضروری اور بے باک سوالات،
جو ہم سب کو خود سے پوچھنے چاہییں:
کیا آج ہماری خدمت واقعی
سب سے کمزور، سب سے بے آواز
اور سب سے زیادہ ستائے گئے مسیحی تک پہنچ رہی ہے،
یا صرف ان تک
جن سے ہمیں کچھ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟
کیا ہم مسیح کے لیے زنجیریں برداشت کرنے والوں کی دعا کو
واقعی قیمتی سمجھتے ہیں،
یا ہم صرف ان دعاؤں کو اہمیت دیتے ہیں
جو محفوظ جگہوں اور بڑے اسٹیجز سے نکلتی ہیں؟
کیا ہم سچ میں آسمان کے خزانے جمع کر رہے ہیں،
یا خدمت کے نام پر
زمین پر سب کچھ محفوظ کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟
کیونکہ اگر مسیحی خدمت
قیدی کے ساتھ خود کو قیدی سمجھنے سے خالی ہے،
اگر وہ مظلوم کی تکلیف کو اپنا درد نہیں بناتی،
اور اگر وہ قربانی کا مطالبہ نہیں کرتی،
تو پھر وہ خدمت نہیں—
صرف ایک دعویٰ ہے۔
اور مسیح
دعویٰ نہیں،
وفاداری مانگتا ہے۔
آج بہت سی این جی اوز، بااثر مسیحی شخصیات اور صاحبِ حیثیت افراد پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتے ہیں
کہ ہم مظلوم مسیحیوں، قیدیوں اور اسائلم سیکرز کے ساتھ کھڑے ہیں،
ہم پرسیکیوٹڈ مسیحیوں کے لیے کام کر رہے ہیں،
ہم خدمت کر رہے ہیں۔
لیکن اصل سوال یہ ہے
کہ کیا یہ سب حقیقت میں بھی ویسا ہی ہے
جیسا بتایا اور دکھایا جاتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ
جو مسیحی واقعی ایمان کی وجہ سے ظلم، قید، جلاوطنی، تشدد اور شدید محرومی کا شکار ہوئے،
جن کے پاس نہ پیسہ ہے،
نہ تعلقات،
نہ کسی بااثر شخص تک رسائی—
وہی سب سے زیادہ نظر انداز ہیں۔
اس کے برعکس،
جہاں فنڈز موجود ہوں،
جہاں ذاتی تعلقات ہوں،
جہاں فائدہ نظر آتا ہو،
وہاں فائلیں بھی چلتی ہیں،
پراجیکٹس بھی بنتے ہیں،
اور کامیابی کی تصویریں بھی دکھائی جاتی ہیں۔
یہ صرف انتظامی یا وقتی مسئلہ نہیں،
یہ ایک سنجیدہ روحانی مسئلہ ہے۔
مسیحی تعلیم ہمیں یہ نہیں سکھاتی
کہ محبت اور خدمت کا معیار وسائل، شہرت یا رسائی سے طے کیا جائے۔
خداوند یسوع مسیح تو یہاں تک سکھاتا ہے
کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو
اور اپنے ستانے والوں کے لیے دعا کرو۔
اگر مسیح اپنے پرسیکیوٹر سے محبت کا حکم دیتا ہے،
تو پھر مسیح کے لیے دکھ اٹھانے والوں،
وہ قیدی جو ایمان کی وجہ سے زنجیروں میں ہیں،
رہے ہیں یا زنجیروں میں تھے—
ان سے بے توجہی
کسی بھی مسیحی معیار پر پوری نہیں اترتی۔
بائبل ہمیں صاف اور واضح طور پر سکھاتی ہے
کہ قیدیوں کو اس طرح یاد رکھو
جیسے تم خود بھی ان کے ساتھ قید میں ہو،
اور جو ظلم اور بدسلوکی سہتے ہیں
انہیں یوں سمجھو
جیسے وہ سب کچھ تمہارے اپنے جسم پر ہو رہا ہو،
کیونکہ تم بھی جسم رکھتے ہو۔
یہ صرف ہمدردی کی بات نہیں،
یہ زندہ ایمان، عملی محبت
اور قربانی کا تقاضا ہے۔
اور ایک حقیقت یہ بھی ہے
جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے:
مسیح کے لیے قید کاٹنے والوں کی دعا
عام دعا نہیں ہوتی۔
وہ دعا زنجیروں، کوڑوں، بھوک، تنہائی اور وفاداری سے گزری ہوتی ہے،
اور اسی لیے اس کا روحانی وزن
اکثر آزاد اور محفوظ لوگوں کی دعاؤں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
رسول پولس قید میں رہتے ہوئے
کلیسیا سے یہ نہیں کہتا
کہ صرف میری مدد کرو،
بلکہ یہ کہتا ہے
کہ میرے لیے دعا کرو،
تاکہ خدا کا کلام
اور زیادہ دلیری کے ساتھ پھیلے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے
کہ جو مسیح کے لیے دکھ اٹھا چکے ہیں
وہ کمزور نہیں،
بلکہ روحانی جنگ کے تجربہ کار گواہ ہیں۔
اس کے باوجود
اگر این جی اوز،
اگر امیر اور بااثر مسیحی شخصیات،
اگر وہ لوگ جو خود کو خدمت کا نمائندہ کہتے ہیں،
ان قیدیوں، ان اسائلم سیکرز
اور ان مظلوم مسیحیوں کو نظر انداز کریں
جنہوں نے ایمان کی قیمت ادا کی ہے،
تو پھر خاموش رہنا بھی بے وفائی بن جاتا ہے۔
خداوند یسوع نے ہمیں پہلے ہی خبردار کیا تھا
کہ زمین پر اپنے لیے خزانے جمع نہ کرو،
بلکہ آسمان پر خزانے جمع کرو۔
جب خدمت کے نام پر
فنڈز بڑھتے جائیں،
تنظیمیں مضبوط ہوتی جائیں،
پراجیکٹس اور سہولتیں بڑھتی جائیں،
مگر مظلوم مسیحی ویسے ہی تنہا، خاموش اور بے سہارا رہیں،
تو یہ خدمت نہیں رہتی—
یہ ایک ایسا نظام بن جاتا ہے
جس میں سب کچھ ہوتا ہے
سوائے مسیح کے دل کے۔
خداوند یسوع خود کو قیدی، بھوکے، ننگے اور مظلوم کے ساتھ جوڑتا ہے
اور کہتا ہے
کہ میں قید میں تھا اور تم میرے پاس آئے۔
اور پھر وہ ایک سخت مگر سچا معیار رکھتا ہے
کہ جو کچھ تم نے سب سے چھوٹوں میں سے ایک کے ساتھ نہیں کیا،
وہ میرے ساتھ بھی نہیں کیا۔
اب چند ضروری اور بے باک سوالات،
جو ہم سب کو خود سے پوچھنے چاہییں:
کیا آج ہماری خدمت واقعی
سب سے کمزور، سب سے بے آواز
اور سب سے زیادہ ستائے گئے مسیحی تک پہنچ رہی ہے،
یا صرف ان تک
جن سے ہمیں کچھ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟
کیا ہم مسیح کے لیے زنجیریں برداشت کرنے والوں کی دعا کو
واقعی قیمتی سمجھتے ہیں،
یا ہم صرف ان دعاؤں کو اہمیت دیتے ہیں
جو محفوظ جگہوں اور بڑے اسٹیجز سے نکلتی ہیں؟
کیا ہم سچ میں آسمان کے خزانے جمع کر رہے ہیں،
یا خدمت کے نام پر
زمین پر سب کچھ محفوظ کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟
کیونکہ اگر مسیحی خدمت
قیدی کے ساتھ خود کو قیدی سمجھنے سے خالی ہے،
اگر وہ مظلوم کی تکلیف کو اپنا درد نہیں بناتی،
اور اگر وہ قربانی کا مطالبہ نہیں کرتی،
تو پھر وہ خدمت نہیں—
صرف ایک دعویٰ ہے۔
اور مسیح
دعویٰ نہیں،
وفاداری مانگتا ہے۔
0 Comments
0 Shares
19 Views