خود پر بھروسے کی حقیقی کہانی:
میری کیوری (Madam Curie) ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک اسکول ٹیچر تھے اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ اُس وقت یورپ میں یہ عام سوچ تھی کہ خواتین سائنس میں نہیں آسکتیں۔
لیکن میری کیوری نے خود پر یقین رکھا۔ وہ پڑھائی کی شوقین تھیں، دن رات محنت کرتی رہیں۔ انہوں نے گھر میں ہی کتابیں پڑھ پڑھ کر سائنس سیکھی۔ پھر اسکالرشپ کے ذریعے پیرس یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔
وہاں بھی حالات آسان نہ تھے۔ کبھی کھانے کو پیسے نہ ہوتے، تو کبھی سردی میں بغیر ہیٹر کے کمروں میں گزارا کرنا پڑتا۔ مگر انہوں نے اپنا مقصد نہیں چھوڑا۔
سالوں کی محنت اور لگن کے بعد، میری کیوری نے ریڈیم اور پولونیم جیسے نئے عناصر دریافت کیے۔ یہ دریافت سائنس کی دنیا میں انقلاب تھی اور اسی سے کینسر کے علاج میں ریڈیو تھراپی کی بنیاد پڑی۔
میری کیوری پہلی خاتون تھیں جنہیں نوبیل انعام ملا، اور وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے دو الگ شعبوں (فزکس اور کیمسٹری) میں نوبیل پرائز جیتا۔
#BelieveInYourself #SpreadPositivity#science
میری کیوری (Madam Curie) ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک اسکول ٹیچر تھے اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ اُس وقت یورپ میں یہ عام سوچ تھی کہ خواتین سائنس میں نہیں آسکتیں۔
لیکن میری کیوری نے خود پر یقین رکھا۔ وہ پڑھائی کی شوقین تھیں، دن رات محنت کرتی رہیں۔ انہوں نے گھر میں ہی کتابیں پڑھ پڑھ کر سائنس سیکھی۔ پھر اسکالرشپ کے ذریعے پیرس یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔
وہاں بھی حالات آسان نہ تھے۔ کبھی کھانے کو پیسے نہ ہوتے، تو کبھی سردی میں بغیر ہیٹر کے کمروں میں گزارا کرنا پڑتا۔ مگر انہوں نے اپنا مقصد نہیں چھوڑا۔
سالوں کی محنت اور لگن کے بعد، میری کیوری نے ریڈیم اور پولونیم جیسے نئے عناصر دریافت کیے۔ یہ دریافت سائنس کی دنیا میں انقلاب تھی اور اسی سے کینسر کے علاج میں ریڈیو تھراپی کی بنیاد پڑی۔
میری کیوری پہلی خاتون تھیں جنہیں نوبیل انعام ملا، اور وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے دو الگ شعبوں (فزکس اور کیمسٹری) میں نوبیل پرائز جیتا۔
#BelieveInYourself #SpreadPositivity#science
خود پر بھروسے کی حقیقی کہانی:
میری کیوری (Madam Curie) ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک اسکول ٹیچر تھے اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ اُس وقت یورپ میں یہ عام سوچ تھی کہ خواتین سائنس میں نہیں آسکتیں۔
لیکن میری کیوری نے خود پر یقین رکھا۔ وہ پڑھائی کی شوقین تھیں، دن رات محنت کرتی رہیں۔ انہوں نے گھر میں ہی کتابیں پڑھ پڑھ کر سائنس سیکھی۔ پھر اسکالرشپ کے ذریعے پیرس یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔
وہاں بھی حالات آسان نہ تھے۔ کبھی کھانے کو پیسے نہ ہوتے، تو کبھی سردی میں بغیر ہیٹر کے کمروں میں گزارا کرنا پڑتا۔ مگر انہوں نے اپنا مقصد نہیں چھوڑا۔
سالوں کی محنت اور لگن کے بعد، میری کیوری نے ریڈیم اور پولونیم جیسے نئے عناصر دریافت کیے۔ یہ دریافت سائنس کی دنیا میں انقلاب تھی اور اسی سے کینسر کے علاج میں ریڈیو تھراپی کی بنیاد پڑی۔
میری کیوری پہلی خاتون تھیں جنہیں نوبیل انعام ملا، اور وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے دو الگ شعبوں (فزکس اور کیمسٹری) میں نوبیل پرائز جیتا۔
#BelieveInYourself #SpreadPositivity#science