<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/" xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/" version="2.0"><channel>
                        <title>The Express News</title>
                        <atom:link href="https://www.express.pk/feed" rel="self" type="application/rss+xml"/>
                        <link>https://www.express.pk/feed</link>
                        <description>The Express News keeps you up to date with all the latest happenings from Pakistan and across the world!</description>
                        <lastBuildDate>Sat, 02 May 26 08:41:17 +0500</lastBuildDate>
                        <language>en-US</language>
                        <sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
                        <sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
                        <generator>https://laravel.com/</generator><item>
			<title>راولپنڈی: ایم ٹو موٹروے پر ہولناک حادثہ، 2 افراد جاں بحق ایک زخمی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811102/rawalpindi-horrific-accident-on-m2-motorway-2-people-killed-one-injured-2811102/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811102/rawalpindi-horrific-accident-on-m2-motorway-2-people-killed-one-injured-2811102/#comments</comments>
			<pubDate>Sat, 02 May 26 03:01:51 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[عمران اصغر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811102</guid>
			<description>
				<![CDATA[حادثہ مہران کار اور مزدا کے درمیان تصادم کے باعث پیش آیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[راولپنڈی کے قریب تھلیان انٹرچینج کے مقام پر ایم ٹو موٹروے پر ایک خوفناک ٹریفک حادثہ پیش آیا&nbsp;جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ مہران کار اور مزدا کے درمیان تصادم کے باعث پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی تین گاڑیاں، جن میں دو ایمبولینسز اور ایک ریسکیو وہیکل شامل تھی، فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جن کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جاں بحق افراد کی شناخت 27 سالہ فیضان اور 55 سالہ اشرف کے نام سے ہوئی ہے۔

حادثے میں زخمی ہونے والے شخص کی شناخت عابد حسین کے نام سے ہوئی ہے&nbsp;جس کی عمر 45 سال بتائی گئی ہے۔ اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا&nbsp;جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق دونوں جاں بحق افراد کے سر پر شدید چوٹیں آئیں&nbsp;جو ان کی موت کی بنیادی وجہ بنیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/accident1753081302-0/accident1753081302-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>لاہور: فلیٹ میں خاتون سمیت دو بچے فائرنگ سے قتل، ملزم کی خود کو گولی مار کر خودکشی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811101/lahore-two-children-including-a-woman-shot-dead-in-a-flat-the-accused-committed-suicide-by-shooting-himself-2811101/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811101/lahore-two-children-including-a-woman-shot-dead-in-a-flat-the-accused-committed-suicide-by-shooting-himself-2811101/#comments</comments>
			<pubDate>Sat, 02 May 26 02:51:50 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ندیم چوہدری]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811101</guid>
			<description>
				<![CDATA[جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت عائشہ کے نام سے ہوئی جبکہ بچوں میں 14 سالہ مصفیرا اور 12 سالہ منیب شامل ہیں]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[لاہور کے علاقے مزنگ میں ایک فلیٹ کے اندر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں خاتون سمیت دو بچوں کو قتل کر دیا گیا&nbsp;جبکہ ملزم نے بعد ازاں خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کر لی۔

پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت عائشہ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ بچوں میں 14 سالہ مصفیرا اور 12 سالہ منیب شامل ہیں۔ واقعے میں دو بچے سمرا اور مناہل زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم شاہد جٹ، جو مزنگ میں پراپرٹی ڈیلر تھا، نے فلیٹ میں اندھا دھند فائرنگ کی اور بعد ازاں خود کو بھی گولی مار لی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، جبکہ کرائم سین یونٹ اور فرانزک ماہرین شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/firing1741072057-0/firing1741072057-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی؛ منشیات فروشوں کیخلاف بڑی کارروائی، گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی گرفتار</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811100/karachi-major-operation-against-drug-dealers-gang-leader-anmol-alias-pinky-arrested-2811100/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811100/karachi-major-operation-against-drug-dealers-gang-leader-anmol-alias-pinky-arrested-2811100/#comments</comments>
			<pubDate>Sat, 02 May 26 02:29:35 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[شاہ میر خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811100</guid>
			<description>
				<![CDATA[ملزمہ طویل عرصے سے شہر کے پوش علاقوں میں آئس اور کوکین کی فراہمی میں ملوث رہی ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منشیات فروش گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کرلی۔ 

ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران پوش علاقوں میں مہنگی منشیات فراہم کرنے والے گروہ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کو حراست میں لے لیا گیا۔ ملزمہ طویل عرصے سے شہر کے پوش علاقوں میں آئس اور کوکین کی فراہمی میں ملوث رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کراچی میں منشیات فروشی کا منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی اور گزشتہ کئی برسوں سے اس غیر قانونی دھندے میں سرگرم تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزمہ ماہانہ کروڑوں روپے مالیت کی منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث رہی ہے۔

&nbsp;ملزمہ انمول عرف پنکی کوکین، آئیس، ایکسٹیسی اور پارٹی پلز کا دھندہ کرتی تھی۔ ملزمہ نے نشہ آور اشیاء کی فروخت میں استعمال کئے جانے والے باکس پر اپنے نام کی برینڈینگ بھی کروائی ہوئی تھی۔ ان ڈبوں کے بالائی حصے پر &quot;کوئن میڈم پنکی &quot;ڈان&quot; نامی کی کافی ہے&quot; کی تحریر لکھی جاتی تھی۔

&nbsp;ذرائع کے مطابق ملزمہ کئی سالوں سے پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھی جسکی گرفتاری کیلئے درجنوں چھاپہ مار کارروائیاں کی جا چکی ہیں ۔

ملزمہ تعلیمی اداروں میں بھی منشیات فروخت کرنے کے حوالے سے پولیس کو مطلوب رہی کے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمہ کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے، جہاں اس سے اہم انکشافات متوقع ہیں ۔

&nbsp;ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران مزید اہم گرفتاریاں اور نام بھی سامنے آ سکتے ہیں ۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/women-arrest1774538860-0/women-arrest1774538860-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی؛ سائٹ ایریا میں گودام میں لگنے والی آگ پر فائر برگیڈ کی 4 گاڑیوں نے قابو پالیا </title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811099/karachi-4-fire-brigade-vehicles-douse-fire-in-warehouse-in-site-area-2811099/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811099/karachi-4-fire-brigade-vehicles-douse-fire-in-warehouse-in-site-area-2811099/#comments</comments>
			<pubDate>Sat, 02 May 26 02:21:23 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[اسٹاف رپورٹر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811099</guid>
			<description>
				<![CDATA[حکام کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان نہیں ہوا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[سائٹ ایریا کے علاقے غنی چورنگی کے قریب واقع گودام میں اچانک آگ بھڑک اٹھی،&nbsp;فائربریگیڈ حکام کے مطابق آگ بجھانے کے لیے چار گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور شعلوں پر قابو پانے کی کوششیں کی گئیں۔ 

دوسری جانب ریسکیو 1122 سندھ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہارون آباد، سائٹ ایریا میں گودام میں آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سے فائر اینڈ ریسکیو ٹیم، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ٹرک فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیے گئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 30 منٹ کی جدو جہد کے بعد آگ پر قابو پالیا، جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے سے بچا جا سکے۔ گودام میں الیکٹرکل اشیا موجود تھیں جو بڑی تعداد میں اتشذدگی کی نظر ہوگئیں۔

حکام کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم آگ لگنے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/untitled-2026-05-02t072243-4171777688770-0/untitled-2026-05-02t072243-4171777688770-0.png" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایران سے مسلح کشیدگی ختم ہوگئی، تنازع مکمل حل نہیں ہوا؛ صدر ٹرمپ کا دعویٰ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811098/armed-tension-with-iran-has-ended-trump-writes-to-congress-2811098/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811098/armed-tension-with-iran-has-ended-trump-writes-to-congress-2811098/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 20:58:27 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811098</guid>
			<description>
				<![CDATA[صدر ٹرمپ نے یہ  دعویٰ کانگریس کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کے نام لکھے گئے خط میں کیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو ایک خط لکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے تاہم تنازع مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔

صدر ٹرمپ نے یہ خط کانگریس کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کے نام ارسال کیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کا مرحلہ اب اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

خط میں ٹرمپ نے لکھا کہ ان کی حکومت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، تاہم اس کے باوجود جنگ جاری رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ تنازع&nbsp;مکمل طور پر حل نہیں ہوا اور صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا مؤقف اختیار کر کے ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ طور پر کانگریس سے باقاعدہ جنگی منظوری لینے کی آئینی ضرورت سے بچنا چاہتی ہے حالانکہ خطے میں امریکی افواج کی موجودگی برقرار ہے۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/donald-trump1768073683-0/donald-trump1768073683-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>شیردل حنین شاہ نے آخری اوور میں بازی پلٹ دی، کنگزمین ٹرافی سے ایک فتح دور</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811097/sherdil-haneen-shah-turns-the-game-around-in-the-last-over-2811097/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811097/sherdil-haneen-shah-turns-the-game-around-in-the-last-over-2811097/#comments</comments>
			<pubDate>Sat, 02 May 26 01:29:39 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کھیل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811097</guid>
			<description>
				<![CDATA[نوجوان پیسر نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 6 رنز بھی نہ بنانے دیے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[شیردل حنین شاہ نے آخری اوور میں بازی پلٹ دی،نوجوان پیسر نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 6 رنز بھی نہ بنانے دیے، حیدرآباد کنگز مین نے اعصاب شکن مقابلے میں 2 رنز کی فتح سے فائنل میں رسائی حاصل کر لی، ابتدائی چاروں میچ ہارنے والی ٹیم اگلے 8 میں سے 7 مقابلے جیت کراب ٹرافی سے ایک جیت دور ہے، اتوار کو فائنل میں پشاور زلمی سے سامنا ہوگا۔

گزشتہ روز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں 187 کے ہدف کا تعاقب کرنے والی ناکام سائیڈ7 وکٹ پر184 تک محدود رہی، مارک چیپمین نے 43 رنز بنائے،19 ویں اوور میں 22 رنز دینے والے محمد علی اور حنین نے 2،2 وکٹیں لیں، قبل ازیں فاتح ٹیم نے 5 وکٹ پر 186 رنز اسکور کیے، ان فارم عثمان خان نے ناقابل شکست 61 رنز کی اننگز کھیلی،انھیں تین چانسز بھی ملے۔ تفصیلات کے مطابق الیمنیٹرٹو انتہائی سنسنی خیز ثابت ہوا۔

آخری 2 اوورز میں یونائیٹڈ کو 4 وکٹوں کی موجودگی میں 28 رنز بنانا تھے، میچ کنگزمین کی گرفت میں نظر آنے لگا البتہ محمد علی نے 22 رنز دے کر صورتحال بدل دی، گرین نے مسلسل 2 چوکوں کے بعد ایک چھکا بھی لگایا، آخری گیند کو فہیم اشرف نے فضائی روٹ سے بائونڈری پار پہنچا دیا، اب آخری اوور میں صرف6 رنز کی ضرورت تھی البتہ کنگز مین نے ہار نہ مانی، حنین کی پہلی گیند پر گرین کوئی رن نہ بنا سکے، اگلی پر سنگل سے اسٹرائیک فہیم کو ملی ، ایک ڈاٹ بال کے بعد وہ حسان خان کو کیچ دے بیٹھے، انھوں نے 19 رنز بنائے، اب 2 بالز پر 5 رنز باقی رہ گئے، عماد نے سنگل لیا، آخری گیند پر ٹیم کو چوکے کی ضرورت تھی لیکن گرین لیگ بائی کا سنگل ہی بنا سکے۔

&nbsp;اسی کے ساتھ کنگزمین کے پلیئرز اور سپورٹنگ اسٹاف کا والہانہ جشن شروع ہو گیا،گرین 21 پر ناٹ آئوٹ رہے،اس سے پہلے 68 رنز پر ٹیم کی4 وکٹیں گر گئی تھیں، سمیر منہاس (6) عاکف جاوید کی گیند پر لبوشین کا کیچ بنے، محسن ریاض (5) کو محمد علی نے عرفان خان کی مدد سے میدان بدر کیا، ڈیون کونوے 30 رنز بنا کر صائم کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے، شاداب خان (22) کو حسان نے عرفان کا کیچ بنوایا، مشکل وقت میں چیپمین اور حیدر علی نے 64 رنز کی شراکت بنائی،حیدر کو 31 رنز پر محمد علی نے میکسویل کا کیچ بنوایا، چیپمین 43 کے اسکور پر حنین کا شکار بنے، کیچ پریرا نے تھاما تھا، محمد علی نے44 اور حنین شاہ نے 37 رنز دے کر 2،2 وکٹیں لیں۔

&nbsp;اس سے پہلے حریف کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے حیدرآباد کنگزمین نے مقررہ اوورز میں5 وکٹ پر 186 رنز بنائے، اوپنر معاذ صداقت بغیر کوئی رن بنائے گلیسن کی گیند پر سلمان مرزا کو کیچ دے بیٹھے، کپتان مارنس لبوشین اور صائم ایوب نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے 70 رنز کی اہم شراکت بنائی، صائم 38 رنز بنا کر گرین کی گیند پر چیپمین کا کیچ بنے، لبوشین 39 رنز پر رخصت ہو گئے، عماد وسیم نے انھیں گرین کا کیچ بنوایا، گلین میکسویل صرف 3 رنز بنا سکے،انھیں عماد نے سلمان کی مدد سے میدان بدر کیا،14 رنز کے دوران 3 وکٹیں گنوانے سے ٹیم پر دباؤ آ گیا، البتہ ان فارم بیٹر عثمان خان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔

انھوں نے صرف 30 گیندوں پر 61 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جس میں 10 چوکے شامل تھے ، اس دوران عثمان کو تین چانسز بھی ملے، 2 کیچز ڈراپ ہوئے جبکہ ایک رن آئوٹ کے موقع سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکا،کوشل پریرا نے 37 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، وہ فہیم کی آخری گیند پر محسن کا کیچ بنے، دونوں نے 101 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی، عماد وسیم نے 16 رنز دے کر2 وکٹیں حاصل کیں ۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/untitled-2026-05-02t064738-6071777686478-0/untitled-2026-05-02t064738-6071777686478-0.png" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>امریکا نے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں کو 8.6 ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کی منظوری دے دی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811096/us-approves-military-sales-of-more-than-86bn-to-middle-east-allies-2811096/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811096/us-approves-military-sales-of-more-than-86bn-to-middle-east-allies-2811096/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 18:19:39 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811096</guid>
			<description>
				<![CDATA[اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو جدید دفاعی ساز و سامان فراہم کیا جائے گا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکا نے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو 8.6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فوجی ساز و سامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو جدید دفاعی ساز و سامان فراہم کیا جائے گا جس کی مجموعی مالیت 8.6 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو نو ہفتے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کو نافذ ہوئے تین ہفتوں سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جسے ماہرین اب بھی نازک قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ٹیلیفون پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے تہران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے پا سکے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں اسلحے کی بڑھتی ہوئی فراہمی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حل کے امکانات بھی غیر یقینی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/untitled-2026-05-02t042552-0531777677969-0/untitled-2026-05-02t042552-0531777677969-0.png" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>امریکا مقاصد کے حصول تک ایران جنگ سے باہر نہیں نکلے گا، ٹرمپ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811095/iran-will-not-withdraw-from-war-until-us-achieves-its-goals-trump-says-2811095/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811095/iran-will-not-withdraw-from-war-until-us-achieves-its-goals-trump-says-2811095/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 17:08:09 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811095</guid>
			<description>
				<![CDATA[صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا اس وقت تنازع سے نکل گیا تو مسئلہ چند سال بعد دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری جنگ سے مقاصد کے حصول تک باہر نہیں نکلے گا۔

فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا اس وقت تنازع سے نکل گیا تو مسئلہ چند سال بعد دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے اس لیے جب تک مقاصد حاصل نہیں کر لیتے ایران جنگ سے جلدی باہر نہیں نکل سکتے۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو نہ روکا جاتا تو اسرائیل اور یورپ کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور قیادت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت ختم ہو چکی ہے، اگرچہ اس پر افسوس ہے لیکن ان کے بقول یہ عناصر خطرناک تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر اس وقت تک زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے جب تک کارروائی مکمل نہ ہو جائے اور یہ بھی کہ یہ اقدامات ماضی کے امریکی صدور کو پہلے ہی کر لینے چاہیے تھے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں اس وقت تیل سے بھرے تقریباً 400 بحری جہاز موجود ہیں اور اگر یہ راستہ کھل جائے تو عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا جلد بازی میں تنازع ختم نہیں کرے گا تاکہ مستقبل میں دوبارہ بحران پیدا نہ ہو۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/untitled-2026-05-02t031225-7771777673572-0/untitled-2026-05-02t031225-7771777673572-0.png" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>آبنائے ہرمز کو سلامتی اور خوشحالی کا ذریعہ بنائیں گے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811094/iranian-revolutionary-guards-vow-to-make-strait-of-hormuz-a-source-of-security-and-prosperity-2811094/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811094/iranian-revolutionary-guards-vow-to-make-strait-of-hormuz-a-source-of-security-and-prosperity-2811094/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 21:48:18 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811094</guid>
			<description>
				<![CDATA[ایران بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں ایران کے ساحل کے قریب پانیوں پر نئے اصول نافذ کرے گا،آئی آر جی سی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ ہرمز کے پانیوں کو سلامتی اور خوشحالی کا ذریعہ بنائیں گے۔

آئی آر جی سی نیوی کمانڈ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں ایران کے ساحل کے قریب پانیوں پر نئے اصول نافذ کرے گا۔

جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اریبین گلف اور آبنائے ہرمز میں ایران کی ساحلی پٹی کے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,243 میل) پر کنٹرول رکھے گی اور اس پانی کو ایران کے پیارے لوگوں کے لیے فخر اور طاقت اور خطے کے لیے سلامتی اور خوشحالی کا ذریعہ بنائے گی۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز سے متفق نہیں ہوں اب جنگ یا سفارتی حل میں سے ایک کا فیصلہ کرنا ہوگا جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے تیار ہے تاہم امریکا کو دھمکی آمیز لہجہ بدلنا ہوگا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/untitled-2026-05-02t025206-4781777672354-0/untitled-2026-05-02t025206-4781777672354-0.png" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھنے کیلیے تیار ہیں لیکن امریکا کو دھمکی آمیز لہجہ بدلنا ہوگا؛ ایران</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811093/iran-ready-to-keep-diplomatic-path-open-but-us-must-change-threatening-tone-2811093/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811093/iran-ready-to-keep-diplomatic-path-open-but-us-must-change-threatening-tone-2811093/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 15:56:17 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811093</guid>
			<description>
				<![CDATA[امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کو باضابطہ ثالث کی حیثیت حاصل ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم امریکا کو اپنا دھمکی آمیز لہجہ اور رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ 

عباس عراقچی نے خطے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں سعودی عرب، قطر، ترکیے، مصر، عراق اور آذربائیجان شامل ہیں۔ اس دوران انہوں نے ان ممالک کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اپنی پالیسیوں میں نرمی لائے اور دھمکیوں کی سیاست ترک کرے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کو باضابطہ ثالث کی حیثیت حاصل ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اگر مذاکرات کے انعقاد کا کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا تو اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے ایسی شرائط پیش کی جا رہی ہیں جن سے وہ اتفاق نہیں کرسکتے&nbsp;جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/syed-abbas-iraghchi1750728381-0/syed-abbas-iraghchi1750728381-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>زہر آلودپوستان</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811092/zehr-aalood-poustan-2811092/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811092/zehr-aalood-poustan-2811092/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 20:54:36 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[راؤ منظر حیات]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811092</guid>
			<description>
				<![CDATA[گوالیار کا قلعہ‘ مغلوں کے زمانے میں وہ عقوبت گاہ تھی جو باغی شہزادوں اور شاہی خاندان کے نافرمانوں کے لیے مختص تھی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[گوالیار کا پر شکوہ قلعہ&lsquo; چھٹی صدی عیسوی میں&lsquo; مہیرا کلہ نام کے بادشاہ نے تعمیر کروایا تھا۔ قدیم وقت سے لے کر آج تک&lsquo; یہ شاہی سطوت کا وہ نشان ہے&lsquo; جسے وقت کی گرد نے اپنے اندر چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ شان و شوکت سے ایستادہ&lsquo; یہ قلعہ کئی صدیوں کے شاہی راز &lsquo; سموئے ہوئے&lsquo; خاموش کھڑا ہے۔ دیواروں اور بنیادوں میں کیا کیا بھیانک راز چھپے ہوئے ہیں یہ تمام تو کوئی نہیں بتا سکتا۔ مگر مغل بادشاہوں کے دور میں &lsquo; گوالیار قلعہ کس جبر کا نشان تھا اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔

المیہ یہ تھا کہ مغلوں میں &lsquo; اقتدار کی تبدیلی کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ اگر بادشاہ موجود ہے &lsquo; تو اس کے مرنے کے بعد کیا ہو گا۔ اس کے متعلق جوتشی بھی کچھ پیشن گوئی کرنے سے قاصر تھے۔ مغل بادشاہوں کو تو خیر جانے دیجیے مسلمان ممالک &lsquo; آج تک اسی گھمبیر مسئلہ کا شکار ہیں کہ جائز انتقال اقتدار کیسے ہو؟ موجودہ مسلم ریاستیں&lsquo; جدید ترین دور میں بھی طاقت کے میدان میں مکمل بنجر ہیں۔ یہ المیہ&lsquo; بھیانک صورت میں صدیوں سے سانپ کی طرح پھن لہرا رہا ہے۔ ویسے مغرب کے تہذیب یافتہ ممالک کو دیکھیں &lsquo; تو شرم آتی ہے ۔ وہاں تو وزراء اعظم یا صدور&lsquo; سرکاری رہائش گاہ سے ذاتی سامان سمیٹتے ہیں۔

خاموشی سے حکومت سے بری الذمہ ہو کر نجی رہائش گاہ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پر ہمارے جیسے ادنیٰ ممالک میں یہ زندگی اور موت کی جدوجہد معلوم پڑتی ہے۔ نہ اقتدار میں آنے کا کوئی جائز ذریعہ ہے۔ ضابطہ یا قانون کے مطابق تو تخت سے اترنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بہرحال مغلیہ دور کے اندر بھی یہی معاملہ تھا۔ سوال تھا کہ بادشاہ کے اقتدار کے لیے &lsquo; خطرہ بننے والے طاقتور لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟جن میں سے اکثریت&lsquo; بذات خود شاہی خاندان کے افراد کی ہوتی تھی۔ جو نشان عبرت بننے سے پہلے &lsquo; جاہ و چشم کا سرچشمہ معلوم پڑتے تھے۔

اردگرد&lsquo; ہزاروں درباری خلعتوں میں ملبوس&lsquo; ادب سے کھڑے رہنے کو باعث عزت سمجھتے تھے۔ مگر یہی &lsquo; طاقتور لوگ &lsquo; جب اقتدار اعلیٰ کے لیے خطرہ بنتے تھے۔ پھر ان کا انجام اتنا وحشت ناک ہوتا تھا کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔ چند دن پہلے&lsquo; جو قیمتی ترین شاہی ملبوسات پہنے ہوئے&lsquo; سونے چاندی کے تخت پر براجمان ہوتے تھے، پلک جھپکتے ہی&lsquo; شاہی زندانوں کے تہہ خانوں میں سانس لے رہے ہوتے تھے۔ جہاں ان کے اردگرد&lsquo; چوہے &lsquo; کیڑے مکوڑے اور خاموش محافظ موجود ہوتے تھے۔

گوالیار کا قلعہ&lsquo; مغلوں کے زمانے میں وہ عقوبت گاہ تھی جو باغی شہزادوں اور شاہی خاندان کے نافرمانوں کے لیے مختص تھی۔ اس کے اندر ہزاروں پہرے دار&lsquo; حکیم&lsquo; نباض اور شاہی جاسوس ہوا کرتے تھے۔ جن کا کردار تھوڑی دیر میں عرض کرتا ہوں۔ مغلوں نے اس عظیم قلعہ کو دنیا کی سب سے ہائی سیکیورٹی جیل بنا رکھا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ذہن میں یہ ہو کہ وہاں&lsquo; قیدیوں کو سخت اذیت دی جاتی ہو۔ صاحبان! ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ یہاں شاہی قیدیوں پر کوئی واضح جسمانی ظلم نہیں کیا جاتا تھا۔ مگر یہاں مغلوں کا ایجاد کیا ہوا&lsquo; وہ حربہ استعمال کیا جاتا تھا جس کا نام سن کر ہی بڑے بڑے جری لوگوں کا پتہ پانی ہوجاتا تھا۔

یہ طریقہ کار کوئی ہاتھ پیر کاٹنے کا نہیں تھا بلکہ بادشاہ کے حکم پر&lsquo; ایک ایسا مشروب پلانے کا تھا جس کے استعمال سے انسان&lsquo; آہستہ آہستہ&lsquo; اپنی یادداشت &lsquo; اعتماد اور نام و نشان سب کچھ بھول جاتا تھا۔ اس کے جسم پر ان گنت پھوڑے نکل آتے تھے جن سے ہر وقت پیپ رستی رہتی تھی۔ مشروب&lsquo; پینے والے انسان کی شناخت ہی بدل دیتا تھا۔ وہ ایک بے ضرر &lsquo; بیمار کیڑے میں تبدیل ہو جاتا تھا۔ جس کی سب سے بڑی راحت موت ہوتی تھی۔ مگر موت سالہا سال انتظار کرواتی تھی۔ تب تک یہ شاہی شہزادے &lsquo; ایک ڈھانچے میں تبدیل ہو جاتے تھے جو صرف سانس لینے پر قادر ہوتا تھا۔ جو بات نہیں کر سکتا تھا، جو سوچنے کی طاقت سے محروم ہو جاتا تھا۔ جسے اپنے اردگرد&lsquo; سائے&lsquo; بلائیں&lsquo; جن اور چڑیلیں نظر آتی تھیں۔

اس مشروب سے Hallucinaations شروع ہو جاتی تھیں۔ آس پاس&lsquo; نظر نہ آنے والے خیالی دشمن وجود میں آ جاتے تھے۔ اور ایک دن&lsquo; اسی حالت میں &lsquo; شہزادہ گوالیار کی قید سے آزاد ہو کر سپھل ہو جاتا تھا یعنی موت کی وادی میں گم ہو جاتا تھا۔ لاش&lsquo; قلعہ کے اندر کسی نامعلوم مقام پر دفن کر دی جاتی تھی۔ اس مشروب کا نام &rsquo;&rsquo;پوستان&lsquo;&lsquo; تھا۔ شاہی حکیم &lsquo; پوست کے ڈوڈوں کو کشید کر کے بناتے تھے۔ یہ زہر آلود مشروب پینے میں حد درجہ کھٹا ہوتا تھا اور اس میں سے ناگوار بو آتی تھی۔ شرو ع شروع میں شہزادے&lsquo; پینے سے انکار کرتے تھے تو زبردستی پکڑ کر پوستان&lsquo; مونہہ میں انڈیلا جاتا تھا۔ چند دن بعد&lsquo; قیدی کی قوت مدافعت اتنی کم ہو جاتی تھی کہ جیسے ہی پیالہ سامنے رکھا جاتا تھا۔

اسے سوچے سمجھے بغیر &lsquo; کسی روبوٹ کی طرح غٹا غٹ پی لیتا تھا۔ یادداشت کھونے کے مزید نزدیک آ جاتا تھا۔ اس مشروب کو پلانے کا طریقہ شاہی حکیموں نے بڑی محنت سے وضع کیا تھا۔ اسے علی الصبح نہار مونہہ پلایا جاتا تھا۔ قانون یہ تھا کہ اگر کوئی انکار کرے &lsquo; تو اسے کھانا دینا بند کر دیا جاتا تھا۔ اس طرح یہ دن کا پہلا ناشتہ ہی ہوتا تھا۔ پیتے ہی&lsquo; قیدی&lsquo;استغراق میں چلا جاتا تھا۔ اسے دن اور رات کا فرق بھی معلوم نہیں ہوتا تھا۔ وہ عالم بے ہوشی میں نہیں جاتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ&lsquo; ہوش و حواس سے عاری ہو جاتا تھا۔ چند مہینوں میں شخصیت مکمل طور پر بدل جاتی تھی۔ بادشاہ کے لیے کسی قسم کاخطرہ بننے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا تھا۔ اپنا نام تک بھول جاتا تھا۔ ہاں ایک اور بات&lsquo; شاہی قیدیوں کو تنہائی میں رکھا جاتا تھا۔ کسی سے بات نہیں کر سکتے تھے۔ اگر پہرے دار کو کوئی جملہ کہتے تھے &lsquo; تو اس کا جواب کبھی نہیں ملتا تھا۔ مکمل خاموشی &lsquo;اور پوستان کا خوفناک اثر&lsquo; انھیں اعصابی مریض بنا دیتا تھا۔

ویسے تو یہ حربہ &lsquo; تمام مغل بادشاہ استعمال کرتے تھے۔ مگر اورنگ زیب عالمگیر &lsquo; اسے بغیر کسی اخلاقی دباؤ کے &lsquo; حددرجہ آرام سے استعمال کرنے کا حکم دیا کرتا تھا۔ مراد بخش&lsquo; اورنگ زیب کا بھائی تھا۔ شہنشاہ اسے باغی گردانتا تھا۔ مراد بخش &lsquo; تخت پر بیٹھنا موروثی حق سمجھتا تھا۔ باغی بھائی کو&lsquo; شہنشاہ نے دھوکے سے گرفتار کروایا۔ جب دربار میں سونے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا پیش کیا گیا۔

کمال رحم فرماتے ہوئے &lsquo; بادشاہ نے گردن زنی کا حکم نہیں دیا بلکہ گوالیار کے قلعہ میں بھیج دیا گیا۔ جہاں ایک &lsquo; خفیہ اور شکستہ موت انتظار کر رہی تھی۔ ہاں&lsquo;ایک اور بات &lsquo; مغل&lsquo; شاہی باغیوں کو قتل نہیں کرواتے تھے اس لیے کہ اس طرح باغیوں کے لیے فوج اور عوام میں &lsquo; ہمدردی کے جذبات ابھر آتے تھے۔ عوام کی نظروں سے اوجھل &lsquo; گوالیار کا قلعہ&lsquo; ان کے لیے موجود ہوتا تھا۔ جہاں وہ بغیر کسی ثبوت کے مار دیے جاتے تھے۔ ہاں&lsquo; ایک اور نقطہ۔ اہم ترین شاہی قیدیوں کی ہر ماہ&lsquo; درباری مصور&lsquo; آ کر تصویر بنایا کرتا تھا۔ اسے پھر اورنگ زیب کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔ اس طرح بادشاہ کو معلوم پڑ جاتا تھاکہ قیدی کس بدحالی کا شکار ہے۔ کتنا کمزور ہوا ہے ، چہرے پر کتنا ضعف آ چکا ہے۔ مرنے کے بعد کی تصویر بھی بادشاہ کے ملاحظہ کے لیے پیش کی جاتی تھی۔ مغل تاریخ کا سب سے عوام دوست شہزادہ &lsquo; کامران بھی اسی ظلم و ستم کا شکار ہو کر مارا گیا۔ پوستان نے اسے مفلوج کر دیا۔ پھر اورنگ زیب نے رحم فرماتے ہوئے&lsquo; اس کا گلہ کٹوا کر مروا دیا۔

شائد آپ سوچ رہے ہوں کہ میں کیا &lsquo; گوالیار کے قلعہ اور زہر آلود پوستان کا ذکر کر رہا ہوں۔ اب تو یہ صرف ایک کہانی معلوم ہوتی ہے۔ نہیں جناب نہیں! آج بھی دنیا میں کچھ نہیں بدلا۔ جو شخص بھی آمر کے اقتدار کے لیے خطرہ بنتا ہے اسے بالکل قدیم انداز میں ہی قید میں رکھا جاتا ہے۔ بغیر کسی کو بتائے ہوئے&lsquo; پوستان طرز کے زہر کا جدید طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ باغی کی قوت ارادی اور حوصلہ توڑنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ اگر یہ حربہ ناکام ہو جائے تو انصاف کی مسند پر بیٹھے ہوئے &lsquo; بلند پایہ قاضیوں کے ذریعہ اسے قتل کروا دیا جاتا ہے۔ جسے آج پھانسی کا نام دیا گیا ہے۔ مگر ہوتا وہ قتل ہی ہے۔

دور کیوں جاتے ہیں کیا ضیاء الحق نے اپنی مخالف سیاسی جماعت کے سربراہ کو &lsquo; حد درجہ ہائی سیکیورٹی جیل میں نہیں رکھا؟ کیا سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو شاہی قلعہ میں ظلم و ستم کا نشانہ نہیں بنایا گیا؟ کیا پاکستان کے وزیراعظم کو پھانسی گھاٹ کا نظارہ نہیں دیکھنا پڑا؟ ویسے دنیا کے کسی بھی آمر حکمران کے طرز عمل میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں۔ اختلاف رائے کرنے والے باغیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ ہاں جب مکافات عمل شروع ہو کر&lsquo; اپنی باری آتی ہے تو جمہوریت اور انسانی حقوق یاد آ جاتے ہیں۔

آج بھی دنیا میں گوالیار طرز کے کئی عقوبت خانے موجود ہیں، جیسے امریکا نے گوانتاناموبے کا عقوبت خانہ بنا رکھا ہے۔ شاہی باغیوں کو جدید دور کا پوستان &lsquo; پلا کر نت نئی بیماریوں میں مبتلا کیا جاتا ہے اور موت کی گھاٹی کے نزدیک تر کر دیا جاتا ہے!]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/untitled-design-21766353473-0/untitled-design-21766353473-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>پھر بدل دو نظام تحریک</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811091/phir-badal-do-nizam-tehreek-2811091/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811091/phir-badal-do-nizam-tehreek-2811091/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 20:54:35 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[محمد سعید آرائیں]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811091</guid>
			<description>
				<![CDATA[ملک کا اقتدار دلانے اور واپس کرنے والے اس نظام کی اپنی محدود طاقت ضرور موجود ہے مگر اس نظام کو ایسا کرنے کی اصل طاقت سیاسی پارٹیوں سے ہی ملی ہے۔]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کراچی سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے دوسرے اور متحرک امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بدل دو نظام تحریک عوام کے دل کی آواز ہے، اس لیے جماعت اسلامی ملک میں عید کے بعد بدل دو نظام تحریک شروع کرے گی اور اس تحریک کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کر دی گئی ہے۔ اب عوام کو بھی متحد ہو کر ملک کے استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔ انھوں نے اس سلسلے میں کراچی کے صدر دفتر میں یہ اعلان بھی کیا کہ ہم نے کراچی میں دس لاکھ نئے ممبران بنانے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔

یہ درست ہے کہ حافظ نعیم نے ملک بھر میں جماعت اسلامی میں جان ڈال دی ہے اور ملک بھر کے دورے کرکے اپنی جماعت کے کارکنوں سے رابطوں کو تیز اور متحرک کیا ہے کیونکہ ہر جماعت میں اس کے کارکن ہی اس کا سرمایہ ہوتے ہیں جن کے بل بوتے پر ہی پارٹی فعال رہتی ہے مگر پاکستان میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ ماضی سے اب تک ملک کی تین بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے کہنے کی حد تک اپنے کارکنوں کی محنت و جدوجہد سے اقتدار حاصل کیا اور بعد میں انھیں بھول گئیں کیونکہ تینوں کی قیادت جانتی ہے کہ انھیں اقتدار کسی اور قوت نے دلایا ہے۔

اسی لیے تینوں پارٹیاں کارکنوں کو بھول کر اقتدار دلانے والوں کی خوشنودی میں مصروف ہو جاتی ہیں اور عوام کو بھی نظرانداز کر دیتی ہیں اور اسی دوڑ میں پہلی بار جب پی ٹی آئی کو وفاقی اقتدار ملا تھا تو اس کے وزیر اعظم نے اقتدار دلانے والے کو&rsquo;&rsquo; قوم کا باپ&lsquo;&lsquo; قرار دے دیا تھا اور اس مصنوعی پشت پناہی سے اپنی اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا تھا اور پہلی بار اقتدار حاصل کرکے وہ کسی کی بھی نہیں سنتے تھے جس پر نادیدہ قوتوں نے وزیر اعظم کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا تھا جس سے پونے چار سال اقتدار میں رہنے والے کا دھڑن تختہ ہو گیا تھا اور اقتدار دلانے والے نظام نے ثابت کر دیا تھا کہ وہی اصل نظام ہے جسے عوام نہیں اپنی طاقت وقت پر دکھانا پڑتی ہے اور زیادہ تر یہ نظام پس پردہ ہی رہتا ہے ۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی امیر جماعت ایک بار پھر بدل دو نظام تحریک شروع کر رہے ہیں اور عوام سے متحد ہونے کی اپیل کر رہے ہیں۔

ملک کا اقتدار دلانے اور واپس کرنے والے اس نظام کی اپنی محدود طاقت ضرور موجود ہے مگر اس نظام کو ایسا کرنے کی اصل طاقت سیاسی پارٹیوں سے ہی ملی ہے۔ ماضی میں اقتدار اور سیاسی مفادات کے لیے مفاد پرست سیاستدان خود ہی اس نظام کی گود میں پلے بڑے اور ہر دور میں اس نظام کا حصہ رہے اور حصول اقتدار کے لیے جمہوری اصولوں کو پامال کرکے اسی نظام کی مدد سے اقتدار میں آ کر انھوں نے خود کو کچھ سمجھنے کی کوشش کی اور ان کے دست شفقت سے محروم ہو کر کچھ پوچھتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا، کچھ اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دے کر خاموش ہو گئے اور آخر والے نے تو انتہا ہی کر دی تھی۔ یہ نظام اتنا ہی خراب تھا تو اس کے سربراہ کو کبھی تاحیات رہنے کی آفر دی مگر اس کے نہ ماننے پر سسٹم کے نئے سربراہ کا تقرر روکنے کی بھی کوشش کی ۔

جنرل ضیا الحق کے دور میں جماعت اسلامی کچھ عرصہ اس نظام کا حصہ رہی پھر جنرل پرویز کے نظام میں صوبہ سرحد میں مجلس عمل کی حکومت میں بھی شامل رہی اور اب اس نظام کو بدلنے کی تحریک ایک بار پھر شروع کی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی سمیت بعض دیگر یہ بھی تحریک چلا چکے ہیں کہ&rsquo;&rsquo; چہرے نہیں نظام کو بدلو&lsquo;&lsquo; مگر نظام نہ بدلا جا سکا اور وہی پرانے چہرے اسی نظام کی بدولت آج بھی اقتدار میں ہیں اور جو شخص خود اسی نظام کی مدد سے اقتدار میں آیا تھا اور اسی نظام کی پشت پناہی سے دوسری بار بھی طویل عرصہ اقتدار میں رہنا چاہتا تھا ایک بار پھر کوشش کر رہا ہے کہ اسی طاقتور نظام سے اس کی صلح ہو جائے تاکہ وہ اقتدار میں آ سکے۔بظاہر موجودہ نظام کی شدید مخالفت کرنے والا خود سیاست اور جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا اور موجودہ سیاسی قوتوں سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا اور اسی نظام سے مذاکرات پر بضد ہے جسے وہ اصل طاقت سمجھتا ہے جبکہ جمہوریت سیاست کے ذریعے قائم ہوتی ہے اور جمہوری طریقہ سے ہی اقتدار مل سکتا ہے۔

جماعت اسلامی صرف جمہوری طور متعدد بار کراچی میں اقتدار میں آئی اور اس بار جمہوری اکثریت کے باوجود اپنا میئر نہ لا سکی اور سندھ حکومت کے نظام میں پی پی کا میئر لایا گیا۔ اس نظام اور جمہوریت کی کئی شکلیں ہیں اور امیر جماعت اسلامی ملک کے موجودہ نظام کو بدلنے کی تحریک شروع کر رہے ہیں جبکہ کئی بار ملک کے اقتدار میں آنے والی بڑی پارٹیاں نظام نہ بدل سکیں کیونکہ نظام بدلنے کے لیے پہلے عوام کو تیار اور خود کو بدلنا پڑتا ہے جبکہ عوام اور دیگر پارٹیاں نظام بدلنے کے موڈ میں نہیں بلکہ اسی نظام کا حصہ ہیں تو بدل دو نظام تحریک کی کامیابی کے امکانات کیا ہوں گے اور کیا جماعت اسلامی اتنی طاقت کی حامل ہے کہ نظام کو بدل سکے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2726107-muhammadsaee_1729577922/2726107-muhammadsaee_1729577922.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>اسلحے کی دوڑ کا پیٹ کبھی نہیں بھرے گا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811090/aslah-ki-daur-ka-pait-kabhi-nahi-bharega-2811090/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811090/aslah-ki-daur-ka-pait-kabhi-nahi-bharega-2811090/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 20:54:35 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[وسعت اللہ خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811090</guid>
			<description>
				<![CDATA[سال دو ہزار پچیس کی ہتھیار بند رپورٹ کے مطابق ہر برس کی طرح اس سال بھی ہتھیاروں کی تجارت میں لگ بھگ تین فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کسی کو یہ جاننا ہو کہ انسان اور انسانوں کی تشکیل میں ریاستیں آپس میں کس قدر بدگمان اور حاسد ہیں تو فی زمانہ عسکریت کی عالمی دوڑ پر نگاہ رکھنے والے موقر اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سپری ) کی ششماہی و سالانہ رپورٹیں پڑھنا کافی ہے۔

سال دو ہزار پچیس کی ہتھیار بند رپورٹ کے مطابق ہر برس کی طرح اس سال بھی ہتھیاروں کی تجارت میں لگ بھگ تین فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔یعنی دو اعشاریہ اٹھاسی ٹریلین ڈالر کے ہتھیار خریدے اور بیچے گئے۔گویا دنیا کے ہر انسان کے تحفظ کے نام پر صرف ایک برس میں فی کس ساڑھے تین سو ڈالر ہتھیاروں میں جھونک دیے گئے۔ یہ رقم مجموعی عالمی اقتصادی پیداوار کے ڈھائی فیصد کے برابر ہے۔ دو ہزار نو کے بعد کسی ایک سال میں اسلحے پر اتنا پیسہ نہیں لگایا گیا۔یورپ کے دفاعی اخراجات میں صرف ایک برس میں چودہ فیصد اور ایشیا و بحرالکاہل خطے کے دفاعی اخراجات میں آٹھ اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا ۔

عالمی سطح پر دو ہزار پچیس میں جتنے اخراجات ہوئے ان میں سے اٹھاون فیصد پانچ ممالک نے کیے ( امریکا ، چین ، روس ، جرمنی ، بھارت )۔

&nbsp;امریکا ہر سال کی طرح دو ہزار پچیس میں بھی دفاعی اخراجات کا گرو رہا۔ امریکا کا دفاعی بجٹ نو سو چون بلین ڈالر تھا جو یکے بعد دیگرے چھ ممالک کے مجموعی دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ چین نے اس عرصے میں دفاع کے نام پر امریکا سے تین گنا کم یعنی تین سو چھتیس بلین ڈالر اور روس نے ایک سو نوے بلین ڈالر خرچ کیے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنا دفاعی بوجھ خود اٹھانے کی پالیسی کے دباؤ میں ناٹو کے یورپی اتحادیوں نے انیس سو تریپن کے بعد سال دو ہزار پچیس میں ہتھیاروں پر سب سے زیادہ پیسہ لگایا۔ یعنی بلجئیم کے دفاعی اخراجات میں انسٹھ فیصد ، سپین کے اخراجات میں پچاس فیصد ، ناروے کے اخراجات میں انچاس فیصد ، ڈنمارک کے اخراجات میں چھیالیس فیصد ، جرمنی کے اخراجات میں چوبیس فیصد ، پولینڈ اور کینیڈا کے دفاعی اخراجات میں تئیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

جرمنی نے دوسری عالمی جنگ میں شکست کے بعد اسلحے کی دوڑ میں شرکت سے بطور پالیسی توبہ کر لی تھی مگر اب امریکی ڈیفنس انشورنس کی شرائط میں بدلاؤ کے بعد ایک بار پھر انگڑائی لے کر کھڑا ہو گیا ہے اور گذشتہ برس دفاعی اخراجات کی عالمی فہرست میں امریکا ، روس اور چین کے بعد جرمنی ایک سو چودہ ارب ڈالر صرف کر کے چوتھے درجے تک آ گیا۔

&nbsp;جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا کی جانب سے &rsquo;&rsquo; ایٹمی چھتری &lsquo;&lsquo; کے بھروسے پر یہ پالیسی اپنائی کہ نہ ہتھیار بنائیں گے ، نہ بیچیں گے۔مگر ٹرمپ کی اپنا بوجھ خود اٹھاؤ پالیسی کے سبب جاپان نے گذشتہ برس دفاعی اخراجات کی مد میں باسٹھ ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے۔کہنے کو یہ پیسہ جاپان کی کل قومی پیداوار کے محض ڈیڑھ فیصد کے برابر ہے مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یہ سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہے۔جاپان اب ہر طرح کا ڈیفنس سسٹم اور بھاری زمینی ہتھیار بھی فروخت کر رہا ہے۔

&nbsp;تائیوان کے تحفظ کا بھی امریکا نے وعدہ کیا تھا۔تاہم تائیوان نے بھی گذشتہ برس اپنے دفاعی اخراجات میں چودہ فیصد ( اٹھارہ بلین ڈالر ) اضافہ کیا۔انیس سو اٹھاسی کے بعد سے یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔دوسری جانب چین دفاعی طاقت کو دو ہزار پینتیس تک مکمل طور پر اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی پالیسی پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔پچھلے تین عشروں سے چینی دفاعی بجٹ میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور گذشتہ برس بھی اس نے اس مد میں ساڑھے سات فیصد کا اضافہ کیا ۔

چار برس سے جاری روس یوکرین جنگ بھی مجموعی عالمی دفاعی اخراجات میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔روس کے فوجی بجٹ میں دو ہزار پچیس میں ساڑھے سات فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ یوکرین اگرچہ عالمی دفاعی اخراجات کی فہرست میں ساتویں درجے پر ہے مگر فیصد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کے اخراجات میں ایک ہی برس میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ۔ اگلے برس مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ خلیج کے توانائی بحران کے سبب روسی تیل کی آمدنی میں اچانک کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور یوکرین کے لیے یورپی یونین نے لگ بھگ نوے ارب یورو کا نیا امدادی قرضہ منظور کیا ہے۔ مشرقِ وسطی کے اسلحہ خریداروں میں سعودی عرب پہلے نمبر پر ہے۔اس نے گذشتہ برس اپنے دفاع پر تراسی ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے۔جبکہ اسرائیل کے فوجی اخراجات انچاس ارب ڈالر رہے۔مگر ان اعداد میں اربوں ڈالر کی وہ امریکی دفاعی گرانٹس شامل نہیں ہیں جو اسرائیل کو غزہ کی ساڑھے تین برس سے جاری نسل کشی کے دوران ملی ہیں۔اس کے برعکس ایران کے دفاعی اخراجات میں گذشتہ برس ساڑھے پانچ فیصد کی کمی آئی حالانکہ ایران میں افراطِ زر کی شرح اس وقت چالیس فیصد سے اوپر ہے۔

جنوبی ایشیا میں بھارت ہمیشہ سے فوجی اخراجات میں آگے آگے رہا ہے۔موجودہ عالمی فہرست میں وہ پانچویں نمبر پر ہے۔گذشتہ برس نو فیصد اضافے کے ساتھ بھارت نے بانوے بلین ڈالر خرچ کیے۔یہ اخراجات پاکستان کے دفاعی اخراجات کے مقابلے میں &rsquo;&rsquo; محض &lsquo;&lsquo; اسی ارب ڈالر زائد ہیں۔

براعظم افریقہ نے مجموعی طور پر دو ہزار پچیس میں اٹھاون ارب ڈالر خرچ کیے۔یہ رقم دو ہزار چوبیس کے مقابلے میں اگرچہ ساڑھے آٹھ فیصد زائد ہے۔یعنی پورے براعظم کے اخراجات جاپان کے دفاعی خرچے سے بھی کم ہیں۔افریقہ میں سب سے زیادہ پیسہ الجزائر نے لگایا۔اس نے کل قومی آمدنی کا پچیس فیصد ہتھیاروں پر خرچ کر دیا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے رواں برس کے لیے کانگریس سے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کا ریکارڈ دفاعی بجٹ منظور کروایا ہے۔اگلے برس کے لیے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔جبکہ ایران امریکا جنگ میں ٹرمپ انتظامیہ صرف چالیس دن میں پینتالیس ارب ڈالر جھونک چکی ہے۔

پس ثابت ہوا کہ انسان کی جبلی بد اعتمادی اور ہوس آنے والے برسوں میں بھی موت کے سوداگروں کا منافع بخش کھلونا بنی رہے گی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2722896-wusatullahkhanNEW-1728674555/2722896-wusatullahkhanNEW-1728674555.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>منقسم خاندانوں کی فریاد</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811089/munsaqsim-khandanon-ki-faryad-2811089/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811089/munsaqsim-khandanon-ki-faryad-2811089/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 20:54:34 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ڈاکٹر توصیف احمد خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811089</guid>
			<description>
				<![CDATA[کشمیر کے کچھ لوگوں کے لیے گزشتہ ہفتے کا دن قیامت کا دن تھا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کشمیر کے کچھ لوگوں کے لیے گزشتہ ہفتے کا دن قیامت کا دن تھا۔ دریائے نیلم کے ایک طرف ایک کشمیری کی میت رکھی گئی تھی اور دریائے نیلم کی دوسری طرف کشمیری لیاقت علی خان کے والد ،بھائی اور قریبی رشتے دار اپنے پیارے کا دور سے دیدار کرنے پر مجبور تھے۔ تدفین کا وقت شام 6بجے کا تھا۔

جہاں میت رکھی گئی تھی وہاں دریائے نیلم کا پاٹ چھوٹا تھا، یوں دوسری طرف کھڑے رشتے دار دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے مگر وہ دریا پار کر کے دوسری طرف جانے کی کوشش نہیں کر سکتے تھے کیونکہ موت یا قیدوبند کی صعوبتیں ان کی منتظر ہوتیں۔ پاکستان اور بھارت کے مقامی کمانڈروں نے اس شام خاصی نرمی کا مظاہرہ کیا، کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہوا۔ جب نمازِ جنازہ کے بعد میت کا دیدار کرنے کے لیے میت کے کفن کا کپڑا اٹھایا گیا تو کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سے آہ و بکا کی آوازیں دریائے نیلم کے پانی کے شور کو مدھم کررہی تھیں۔ مرحوم لیاقت علی خان کے خاندان کا تعلق مقبوضہ کشمیر کی تحصیل کپواڑہ کے گاؤں کیرن سے ہے۔

90ء کی دہائی میں کشمیری حریت پسند جنگجوؤں کے خلاف بھارتی فوج نے کشمیر بھر میں آپریشن کیا تھا تو بھارتی فوج کے اہلکار انسانی حقوق کی پامالی کی بہت سی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ اس وقت بہت سے خاندان لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیرکنٹرول علاقے میں آباد ہوگئے تھے۔ ان ہجرت کرنے والوں میں لیاقت علی خان کے والد راجہ اطہر خان بھی شامل تھے۔ اطہر خان اپنے دو بیویوں اور 11 بچوں کو ساتھ لائے مگر ان کی تیسری بیوی اور ایک بیٹا لیاقت علی خان اپنے آبائی علاقے میں رک گئے تھے۔ لیاقت علی خان کی تربیت ان کے چچا راجہ شرافت علی خان نے کی تھی۔ راجہ لیاقت علی خان ایک ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈپٹی کمیشنر ہیں۔

لیاقت علی خان نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد محکمہ ریونیو میں ملازمت کرلی۔ جب لیاقت علی خان کا انتقال ہوا تو وہ نائب تحصیلدار کے عہدے پر تعینات تھے۔ لیاقت علی خان نے شادی کی اور ان کے چار بچے تھے۔ لیاقت علی خان دل کے عارضہ میں مبتلا ہوئے۔ انھیں سری نگر کے دل کے امراض کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا مگر وہ گزشتہ ہفتے کو زندگی کی جنگ ہار گئے۔ لیاقت علی خان کے خاندان کی خواہش تھی کہ مرحوم کو سری نگر کے بجائے کیرن کے خاندانی قبرستان میں دفن کیا جائے۔

ایک رپورٹ کے مطابق لیاقت علی خان کی موت کی خبر کنٹرول لائن کے اطراف آباد گاؤں تک پہنچ گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گزشتہ ہفتے کی سہ پہر تک دریائے نیلم کے دونوں کناروں پر سیکڑوں سوگوار جمع ہوگئے تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوگوار کیرن سے میت کو کندھوں پر اٹھائے کنٹرول لائن کی طرف آئے اور جنازہ دریائے نیلم کے کنارے رک گیا، میت کا کفن اٹھایا گیا۔ دریا کے دوسری طرف کھڑے عزیزوں نے اپنے پیارے کا آخری دیدار کیا۔ لیاقت علی خان کے ایک رشتے دار ظہور احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ مسئلہ یہ تھا کہ ان کے بھائی بہن اس اہم گھڑی میں کسی طرح مرحوم کا چہرہ دیکھیں اور جنازے میں شامل ہوجائیں۔

دریا کے اس پار چاچا جی کے قریبی رشتہ دار ماتم کررہے تھے اور ہم نے اس طرف سے ان کی میت کو دکھانے کے لیے چارپائی کو اونچا اٹھایا تو اس پار کہرام مچ گیا۔ ظہور احمد کا کہنا ہے کہ لیاقت علی کیرن کی معروف شخصیت تھے اور نائب تحصیلدار کے طور پر وہیں تعینات تھے۔ ظہور کے مطابق ان کا خاندان ایل او سی کے پار چلا گیا تو وہ نوکری کی وجہ سے یہیں رک گئے۔ انھیں امید تھی کہ حالات ٹھیک ہوجائیں تو رابطے پھر بحال ہوجائیں گے۔ لیاقت کی بہن شگفتہ بانو کہتی ہیں کہ میرا بھائی دنیا سے رخصت ہوا، میں نہ ماں کے گلے لگ کر روسکی نہ جنازے کے پاس بیٹھ سکی۔ چند میٹر کا فاصلہ تھا مگر دریا کی لہروں نے ہمیں ملنے نہیں دیا۔

راجہ لیاقت کے بھائی نثار خان کہتے ہیں کہ دریا کے اس پار سے بھائی کا جنازہ آرہا تھا اور ہم اس طرف روتے چلے تھے۔ میں اپنے بھائی کو کندھا نہ دے سکا۔ راجہ لیاقت علی خان کے ایک اور بھائی راجہ بشارت کہتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا اور 1990ء میں نقل مکانی کررہے تھے تو میرے والد اور بہن بھائی اس طرف آئے۔ ہم صرف دریا کے کنارے بیٹھ کر ایک دوسرے کو دیکھتے تھے۔ جب بھائی کی وفات کا سنا تو ہم فوراً کیرن کی طرف روانہ ہوئے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہم جنازہ میں شریک نہیں ہوسکتے مگر وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف ماں پتھروں سے سر پھوڑ رہی تھیں تو دوسری طرف بہنیں سر پیٹ رہی تھیں۔

&nbsp;کشمیر کی کل آبادی 15سے 16 ملین ہے جس میں سے 10 ملین افراد مقبوضہ کشمیر میں آباد ہیں۔ اسی طرح 4ملین افراد آزاد کشمیر میں آباد ہیں، کشمیر میںشامل گلگت بلتستان (قدیم زمانہ میں گلگت کشمیر کا حصہ تھا) کی آبادی 1.7 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول 740 کلومیٹر طویل اور 33 کلومیٹر چوڑی&nbsp; ہے۔ اس سرحد کے دونوں طرف لاکھوں لوگ آباد ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ دریائے نیلم 144 کلومیٹر طویل علاقے سے گزرتا ہے۔ یہ دریا آزاد کشمیر کے جنوبی علاقہ (Northern Most) سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دریائے جہلم میں شامل ہوجاتا ہے۔

کشمیر کا ضلع کپواڑہ کی آبادی 8 لاکھ افراد سے زیادہ ہے جن میں سے 99.59 فیصد مسلمان ہیں۔ یہ مسلمان کنٹرول لائن کے دوسری طرف بھی آباد ہیں۔ کپواڑہ کی تحصیل کیرن کی حساس ترین بستی میں 4ہزار لوگ آباد ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں راجہ لیاقت کے ایک رشتے دار محمد یاسر کہتے ہیں کہ پہلے کنٹرول لائن کی دوسری طرف جانے کے لیے کچھ کراسنگ یونٹ تھے لیکن اس کے لیے ایل او سی میں پرمٹ لینا پڑتا تھا۔ اب یہ کراسنگ یونٹ بند ہیں اور پرمٹ کا عمل نہایت طویل اور پیچیدہ ہے۔ اس عمل میں طویل جانچ پڑتال ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی فرد کے انتقال کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے انتظار کیا جاسکتا ہے۔ اتنی دیر میں پرمٹ ملنا مشکل ہوتا ہے۔ یاسر کا کہنا ہے کہ کئی برس تک دنوں طرف رہنے والے رشتے دار دریا کے اوپر رسی کے ذریعہ خط بھیجتے تھے۔ اب سوشل میڈیا سے آسانی ہوگئی ہے۔

&nbsp;کشمیر کی 1948ء میں تقسیم کے بعد 65ء کی جنگ تک شہریوں کو کشمیر کے دونوں حصوں میں جانے کی اجازت تھی مگر 65ء کی جنگ کے بعد یہ رابطہ منقطع ہوگیا۔ جب 1971 میں صدر ذوالفقارعلی بھٹو، مسز اندرا گاندھی سے ملاقات کے لیے شملہ گئے تو شملہ معاہدہ کے تحت دونوں حصوں کو تقسیم کرنے والی لائن کو کنٹرل لائن قرار دیا گیا۔ 1990ء کی دہائی سے کنٹرول لائن گرم ہوئی۔ بھارتی فوج بلا اشتعال بھی اندھادھند گولہ باری شروع کردیتی۔ اس گولہ باری سے آزاد کشمیر کے خوبصورت سرحدی علاقوں میں سیاحت ختم ہوئی اور دونوں طرف گولہ باری عام سی بات بن گئی۔ جب صدر پرویز مشرف کشمیر کے معاملے پر مذاکرات کے لیے آگرہ گئے اور وزیر اعظم واجپائی سے مذاکرات کیے تو Cross Border Terrorismکے مسئلے پر معاہدہ نہ ہونے سے یہ مذاکرات ناکام ہوگئے مگر غیر ریاستی ایکٹرز کی مسلسل کارروائیوں کے بعد 2003ء میں صدر مشرف نے بھارت سے ایک معاہدہ پر اتفاق کیا۔

ایک طرف کشمیری حریت پسند جنگجو گروہوں کی کنٹرول لائن پر سرگرمیوں تو دوسری طرف بھارتی فوج کی مسلسل گولہ باری کا سلسلہ رک گیا جس کی بناء پر سری نگر سے مظفر آباد تک بس سروس شروع ہوئی۔ پوری وادی میں زندگی معمول پر آگئی اور بہت سارے سیاح ان علاقوں میں آنے لگے، یوں لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ ہوا، دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع معاہدہ کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت اب کشمیریوں کو لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف ڈپٹی کمیشنر کی پرمٹ سے آ نے جانے کی اجازت ہوگئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی سری نگر سے راولپنڈی تک تجارت کے لیے ٹرک چلنے لگے تھے۔

&nbsp;2019ء میں بھارت کی حکومت نے کشمیر کی حیثیت کوتبدیل کردیا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بھارت کے اس غیر منصفانہ رویہ پر اس سے تمام تعلقات منقطع کردیے، یوں کشمیریوں کی مشکلات بڑھتی چلی گئیں، اب کشمیریوں کو لائن آف کنٹرول سے دوسری طرف جانے کے لیے واہگہ کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور دونوں ملکوں میں جانے کے لیے نئی دہلی اور اسلام آباد سے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیرن کا سانحہ دونوں حکومتوں کو یاد دلارہا ہے کہ 2003ء کے معاہدے کے تحت کنٹرول لائن پر انٹری پوائنٹ کھول دیے جائیں۔ کشمیری شہریوں کو کشمیر میں آنے جانے کی مکمل اجازت ہو اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لیاقت علی مرحوم کے لواحقین کے ساتھ جو گزری یہ عمل کہتا ہے کہ دونوں حکومتیں ایسے اقدامات کریں کہ کسی اور کشمیری خاندان کو اس طرح کے تجربہ سے نہ گزرنا پڑے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2721587-toseefahmedkhannew-1728498340/2721587-toseefahmedkhannew-1728498340.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>5 ایکڑ زمین کا اعلان</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811088/5-acre-zameen-ka-elan-2811088/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811088/5-acre-zameen-ka-elan-2811088/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 20:54:34 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[محمد ابراہیم خلیل]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811088</guid>
			<description>
				<![CDATA[دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ زمین کی تقسیم کبھی آسان نہیں رہی۔ برازیل میں زمین کے لیے تحریکیں چلیں، قبضے ہوئے، خون بہتا رہا۔]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ زمین کی تقسیم کبھی آسان نہیں رہی۔ برازیل میں زمین کے لیے تحریکیں چلیں، قبضے ہوئے، خون بہتا رہا۔ بھارت میں زمینی اصلاحات کے باوجود تنازعات ختم نہ ہو سکے۔ جنوبی افریقہ میں زمین کی ملکیت آج بھی ایک سیاسی زخم ہے اور کراچی میں کیا ہو رہاہے ہر ایک جانتا ہے۔ اکثر سوسائٹیز جوکہ 1970/60 کے آس پاس ممبران کو الاٹ ہوئی تھیں اب کس طرح ان پر قبضہ مافیا قبضہ کرکے غیر الاٹیوں کو فروخت کر دیا کرتے ہیں۔ چند دن قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے کسانوں کو مفت زمین دینے کا اعلان کیا گیا۔

یہ خبر حالیہ دنوں میں خاصی نمایاں رہی ہے اور دیگر صوبوں کی طرف سے اس طرح کے اقدامات اٹھانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ مریم نواز کی اسکیم کے تحت ہر مستحق کسان کو تقریباً 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔ یہ زمین صرف 10 سالہ لیز پر ہوگی یعنی کرایہ اور قیمت ادا نہیں کرنا ہوگی، کسانوں سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی اور فوری کاشت کے لیے 50 ہزار روپے سے ڈھائی لاکھ روپے تک گرانٹ بھی دی جائے گی۔ مجموعی طور پر اربوں روپے مالیت کی اراضی اس منصوبے میں شامل ہے۔ اس اسکیم کے ساتھ پنجاب حکومت نے دیگر مراعاتی اقدامات بھی جوڑے ہیں۔

لیکن یہ اعلان محض سرکاری اعلان بن کر نہیں رہ گیا بلکہ یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ بہت سی سرکاری زمینوں پر چاہے وہ بنجر کیوں نہ ہوں قبضہ ہو چکا ہے۔ بہت سی زمینوں کو آباد ہوئے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر وہ زمین اب بھی سرکار کے ہی نام ہے۔ اس اسکیم کے اعلان نے بہت سے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں کہ زمین کی تقسیم کے وقت مزاحمت کہاں سے اٹھے گی۔ کیا یہ زمین ابھی تک خالی ہے یا اس پر پہلے ہی غیر رسمی قبضہ ہے یا وہاں وہ لوگ رہتے ہیں اور کاشتکاری کرتے ہیں اور اس زمین کو اپنی محنت سے آباد کر چکے ہیں۔

&nbsp;پاکستان میں مختلف رپورٹس کے مطابق زمینوں کا ایک تہائی حصہ یا 20 سے 30 فی صد تک کسی نہ کسی شکل میں متنازع یا غیر واضح ملکیت کا شکار ہے اور یہی وہ بات ہو سکتی ہے جہاں ریاستی اعلان اور زمینی حقیقت ٹکرا سکتی ہے۔ اس اسکیم میں اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایک کسان کا خاندان جو پون صدی سے زمین تو کاشت کر رہا ہے مگر کبھی کاغذ حاصل کرنے کی یا بنوانے کی کوشش نہیں کی تو کیا اسے قابض قرار دے کر کسی اور کو الاٹ کر دیا جائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو اس اسکیم کے نفاذ کے وقت جگہ جگہ درپیش ہو سکتا ہے۔

&nbsp;پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ صرف 5 فیصد بڑے زمیندار تقریباً 64 فی صد زمین کے مالک ہیں اور لاکھوں کسان مکمل طور پر بے زمین ہیں۔ اس اسکیم کو نفاذ کے وقت کچھ باتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا، زمین کا شفاف ریکارڈ ہونا چاہیے اور ایسا شفاف ریکارڈ ہونا چاہیے جوکہ تلہ گنگ کے دیہات نامی کتاب کے مصنف طارق محمود ملک نے برطانوی دور اور کہیں اس سے قبل مغلیہ دور میں غیر آباد زمینوں کو قابل کاشت بنانے کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دیہی زندگی صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ثقافت رشتے اور زمین سے جڑی تاریخ کا مجموعہ ہے۔

اس کتاب میں مصنف نے جس باریکی سے شجرہ نسب کی تاریخ اور ان خاندانوں نے کس طرح تلہ گنگ کے مختلف دیہاتوں کی غیر آباد زمینوں کو آباد کیا، تلہ گنگ کے ہر گاؤں میں کم از کم 60 سے 70 خاندانوں کے آباؤ اجداد جوکہ 600 سال یا 500 سال قبل آئے تھے۔ ہر گاؤں کے افراد کا شجرہ ہر زمین کا ایک قصہ، کون کب آیا، کس نے کنویں کھودے، کس نے بنجر زمین کو زرخیز بنایا ان سب باتوں کا انتہائی جانفشانی سے جائزہ لیا ہے کہ ہزاروں ایکڑ زمینوں کا سچ سامنے آ گیا۔انھوں نے بڑی جانفشانی سے ہر گاؤں میں زمین کی تقسیم کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔ مثلاً تلہ گنگ کے قریب گاؤں اکوال کے بارے میں لکھا ہے کہ &rsquo;&rsquo;بندوبست قانونی ہنگام وراثت اور غیر وراثت 17 جولائی 1863 کو درج کیا گیا تھا۔ &lsquo;&lsquo;تھوہا محرم خان کے بارے میں لکھا کہ 400 سال قبل محرم خان نے اس ویرانے کو آباد کیا تھا۔ اس کتاب میں تلہ گنگ کے دیہی علاقوں میں رہنے والے یا کہیں دور سے آنے والے ہندو اور اعوان خاندان کے افراد کے نام زمین کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندو اور سکھوں کے چلے جانے کے بعد بھی ان کے آبا و اجداد کے نام ان کی &rsquo;&rsquo;گوتیں&lsquo;&lsquo; اور زمین کے بارے میں تفصیل سے لکھا۔ تھوہا محرم خان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ چونکہ زمین کی بے قدری تھی اس لیے جس نے جتنا حصہ تصرف میں لے لیا اس کا حقدار ہوا، جس کا ذکر &rsquo;&rsquo;مثل وراثت دیہہ میں جولائی 1864 میں درج کیا گیا تھا۔&lsquo;&lsquo; تلہ گنگ کے دیہات نامی کتاب کے مصنف طارق محمود ملک نے شجرہ نسب کے ساتھ جڑی زمین کی تاریخ بیان کرکے دیگر علاقوں کے مصنفین کو دعوت عام دے دی تھی کہ وہ اپنے علاقوں کے بارے میں ایسی ہی تفصیلات کتابی شکل میں لے کر آئیں۔

اگرچہ اس سلسلے میں کئی علاقوں میں کچھ کام ہو چکا ہے اور کچھ کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود ابھی بہت زیادہ تصنیفی کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کہیں کہیں زمین کے اصل حقداروں کا علم ہو سکے۔ اس طرح سے ناجائز قبضوں کا علم ہو سکتا ہے۔ اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم سے تقریباً 9 ہزار خاندان مستفید ہوں گے۔ 160 ارب روپے کا یہ منصوبہ ہے، زمینوں کی الاٹمنٹ کے وقت پہلے والے زمینداروں کو ترجیح دینا ہوگی اور زراعت کے شعبے سے وابستہ ایسے کسانوں کو الاٹ کیا جائے جو پہلے سے کاشتکاری تو کر رہے ہیں لیکن وہ بے زمین کسان ہیں انھی کو زمین الاٹ کی جائے ورنہ 5 ایکڑ زمین دینے کا اعلان بے مقصد ہو کر رہ جائے گا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2727427-muhammadibrahimkhalil-1729272984/2727427-muhammadibrahimkhalil-1729272984.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>شکاگو کے شہیدوں کے نام</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811087/shicago-ke-shaheedon-ke-naam-2811087/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811087/shicago-ke-shaheedon-ke-naam-2811087/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 20:54:33 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ایم اسلم کھوکھر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811087</guid>
			<description>
				<![CDATA[یہ ذکر ہے 19 ویں صدی کے آغاز کا، جب ہم امریکا، انگلستان، فرانس، جرمنی سمیت پورے یورپ میں سرمایہ داری نظام قریب قریب دو سو برس مکمل کر چکا تھا۔]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[یہ ذکر ہے 19 ویں صدی کے آغاز کا، جب ہم امریکا، انگلستان، فرانس، جرمنی سمیت پورے یورپ میں سرمایہ داری نظام قریب قریب دو سو برس مکمل کر چکا تھا۔ یہ ضرور تھا کہ اب سرمایہ داری نظام کی خرابیاں بھی پوری طرح عیاں ہو چکی تھیں، سرمایہ داری نظام کا جبر و استحصال بھی جاری تھا، کیفیت یہ تھی کہ مزدوروں سے چودہ گھنٹے کام لیا جاتا اور انتہائی قلیل اجرت دی جاتی۔

یہ ضرور ہوا کہ جہاں جہاں سرمایہ داری نظام تھا وہاں وہاں یہ تحریک شروع ہو گئی کہ ہمارے کام کے گھنٹے کم کیے جائیں، تمام صنعتی ممالک کے مزدوروں کا یہی مطالبہ تھا۔ ایک جبر کی شکل یہ بھی تھی کہ مزدوروں کو طلوع آفتاب سے پہلے ہی کام پر لگا دیا جاتا اور انھیں ناشتہ کھانے کی بھی اجازت نہ تھی۔ عذر یہ پیش کیا جاتا کہ اگر مزدور ناشتہ کھا کر کام شروع کریں تو پھر مزدور سستی و کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ٹھیک سے کام نہیں کرتے۔ بہرکیف جس تحریک کا ہم ذکر کر رہے ہیں وہ 1820 کو نکتہ عروج پر تھی لیکن منزل مقصود ابھی بہت دور تھی اور 1850 تک یہ مزدور تحریک جاری رہی۔ مزدوروں نے یہ تحریک کامیابی کے یقین کے ساتھ جاری رکھی۔

&nbsp;اگرچہ سرمایہ داری جبر بھی وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔ البتہ مزدور تحریک اس حد تک تو کامیاب رہی کہ انگلستان و فرانس کے مزدوروں کے کام کے گھنٹے کم کرکے دس کر دیے مگر امریکا و یورپ کے مزدور چودہ گھنٹے کام کرنے پر اب تک مجبور تھے، چنانچہ اب پھر سے گویا نئی صف بندی کی گئی اور امریکا و یورپ کے مزدوروں نے نئے عزم کے ساتھ یہ مزدور تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، تمام تر جبر و استحصال کے باوجود یہ تحریک جاری رہی۔ البتہ اب روس کے مزدور بھی جوکہ زارشاہی و سرمایہ داری نظام کے جبر کا شکار تھے ،اس تحریک میں پوری طرح شریک ہو چکے تھے۔&nbsp;

19 ویں صدی کی مزدور تحریک کی جانب، تو دوسرے دور کی مزدور تحریک ایک طرح سے نسلوں کی تحریک تھی۔ اچھی بات یہ تھی کہ یہ تحریک 1880 کے زمانے میں داخل ہو گئی، اس زمانے میں اگر مزدور پوری طرح پرعزم تھے کہ اب سرمایہ کو ہمارے کام کے گھنٹے کم کرنا ہی ہوںگے تو دوسری جانب سرمایہ دار بھی ہر قسم کے تشدد روا رکھنے کے لیے تیار ہو چکا تھا، ان تمام حالات میں امریکا کے صنعتی شہر شکاگو میں محنت کشوں نے ایک بھرپور احتجاج و ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ ذکر ہے یکم مئی 1886 کا۔ شکاگو شہر سے فیلے ویلفیا باٹلی مور لاس اینجلز مونٹ ریل، بوسٹن نیویارک کو ریلیں جاتی ہیں لیکن آج تمام ریل سروس معطل ہے۔

اسی شہر شکاگو میں درمیان میں ایک دریا مچیگن بھی بہتا ہے، اسی دریا میں بحری جہاز بھی سامان لے کر آتے اور دیگر شہروں کو جاتے ہیں، پھر ٹریکٹر تیار کرنے کا ایک بہت بڑا کارخانہ ہے، یہ کارخانہ مکورمک کی ملکیت ہے۔ مکورمک خاندان آج 21 ویں صدی میں بھی امریکا کے چند امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ مگر یکم مئی 1886 تمام قسم کی کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں تمام مزدور مارکیٹ کی جانب رواں دواں ہیں جہاں ایک بہت بڑے جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا ہے۔ چنانچہ جب مزدور کے جلسے کا آغاز ہوتا ہے تو شہر کی تمام پولیس و ان کی معاونت کے لیے آنے والی فوج بھی مزدوروں پر اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیتے ہیں چونکہ مزدور اس ناگہانی آفت کے لیے تیار بھی نہ تھے مزدوروں کے وہاں سے فرار ہونے کے تمام راستے بند تھے۔

یوں بھی مزدور اپنے ہاتھوں سے لوہا تو پگھلا سکتا ہے دھرتی کا سینہ پھاڑ کے اناج پیدا کر سکتا ہے مگر مزدور سپاہی بھی ہوتا ہے کہ ہتھیار اٹھا کر دوبدو لڑائی لڑ سکے۔ چنانچہ سیکیورٹی والوں نے خوب قتل عام کیا، شام تک یہ کیفیت تھی کہ ہر جانب مزدوروں کی چیخ و پکار تھی، ہر گھر میں صف ماتم تھی، جاں بحق مزدوروں کی تعداد ہر کوئی بتانے سے قاصر تھا، بلکہ آج تک ان جاں بحق مزدوروں کی تعداد وثوق سے کوئی نہیں بتا سکتا۔ رات گزری 2 مئی 1886 کا سورج طلوع ہوا۔ آج پھر مزدوروں نے ایک احتجاجی جلسے کا اعلان کیا، آج گزشتہ یوم کے شہید مزدوروں کے لباس کو جو خون آلود تھے بہ طور پرچم لہرایا گیا جو پرچم کل تک سفید تھا آج سرخ تھا۔ آج ایک مزدور دوست اخبار نے لکھا تھا کہ&rsquo;&rsquo; مزدورو! بہادری سے آگے بڑھو، لڑائی شروع ہو چکی ہے، مزدوروں کی بڑی تعداد بے روزگار، سرمایہ دار اپنے خونی پنجوں کو نظام اور قانون میں چھپائے ہوئے ہے۔&lsquo;&lsquo;

مزدورو! تمہارا یہ نعرہ ہونا چاہیے کہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، یکم مئی کی اہمیت آنے والے زمانے میں سمجھی جائے گی، تمہارے حقوق طلب کرنے کا دن ہے سرمایہ دار بغیر لڑائی کے کام کے گھنٹے کم نہیں کرے گا۔ 2 مئی 1886 کو پھر ایک خونی کھیل کھیلا گیا بلکہ آج کا دن کل سے بھی ہولناک تھا۔ آج بھی زخمی و جاں بحق مزدوروں کی تعداد لاتعداد تھی۔ اس تمام ریاستی دہشت گردی کو ہے مارکیٹ بلوے کا نام دیا گیا، بہت سارے مزدور گرفتار ہوئے، چار کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ مگر مزدوروں کی جدوجہد رکی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیل گئی، بالخصوص روسی مزدوروں نے جدوجہد کی مثال قائم کی، انھوں نے اپنی پارٹی قائم کی اور دنیا بھر کے مزدوروں کو اپنے اپنے ملکوں میں مزدوروں کی پارٹیاں قائم کرنے کی ترغیب دی اور بالآخر روس میں مزدور اپنی ریاست 1917 میں قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ البتہ بعدازاں پورے یورپ میں سوشل انقلاب برپا ہو گیا، مگر آج بھی بہت سارے ممالک میں مزدور جبر کا شکار ہیں، چنانچہ شاعر مشرق علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ ؎

تو عادل ہے قادر مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ داری کا سفینہ

دنیا تیری منتظر ہے روز مکافات]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/1901970-MAslamKhokhar-1575222682/1901970-MAslamKhokhar-1575222682.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>آبنائے ہرمز تنازع اور عالمی بے چینی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811086/abnaye-hormuz-tanaza-aur-aalami-bechaini-2811086/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811086/abnaye-hormuz-tanaza-aur-aalami-bechaini-2811086/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 20:51:28 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ایڈیٹوریل]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811086</guid>
			<description>
				<![CDATA[خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ اس بحران کی شدت کا پہلا واضح اشارہ ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایسی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے جس کے اثرات محض علاقائی سیاست تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کے نظام، بین الاقوامی سفارت کاری اور طاقت کے توازن تک پھیل چکے ہیں۔

حالیہ پیش رفتوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دنیا ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں کسی بھی غلط اندازے، جذباتی فیصلے یا طاقت کے بے جا استعمال کے نتیجے میں صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ بظاہر جنگ بندی کے اعلانات، سفارتی بیانات اور عالمی برادری کی اپیلیں ایک امید کا پہلو پیش کرتی ہیں، لیکن پس پردہ جاری فوجی تیاریوں اور سخت بیانات نے اس امید کو غیر یقینی کے دبیز بادلوں میں چھپا دیا ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ اس بحران کی شدت کا پہلا واضح اشارہ ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچیں تو یہ صرف ایک معاشی خبر نہیں تھی بلکہ ایک انتباہ تھا کہ توانائی کی سپلائی چین خطرے میں ہے۔ اگرچہ بعد میں قیمتیں کچھ کم ہو کر 113 ڈالر تک آئیں، مگر یہ کمی کسی استحکام کی علامت نہیں بلکہ وقتی اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی نفسیاتی عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہے، اور جب سرمایہ کاروں کو خطرے کا احساس ہو تو قیمتوں میں معمولی خبر بھی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔

اس تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک مسلسل خطرے کے طور پر موجود ہے جو کسی بھی وقت قیمتوں کو دوبارہ بلند سطح پر لے جا سکتی ہے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد جنگ عملاً ختم ہو چکی ہے، لیکن اس دعوے کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا جاری رہنا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے، اگر جنگ واقعی ختم ہو چکی ہے تو پھر نئے فوجی اتحاد کی تشکیل کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ اگر خطرہ ٹل چکا ہے تو پھر سینیٹرل کمانڈ کی جانب سے مختصر مگر طاقتور فضائی حملوں کے منصوبے کیوں تیار کیے جا رہے ہیں؟ یہ سوالات نہ صرف امریکی پالیسی کی سمت پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔

&nbsp;ایران کی جانب سے بھی ردعمل کسی طور کم سخت نہیں۔ ایرانی قیادت نے نہ صرف امریکی دھمکیوں کو مسترد کیا ہے بلکہ اپنے دفاعی اور جوہری پروگرام کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ تقدیر کی بات ایک اہم سفارتی اشارہ ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران خطے میں تنہائی کا شکار نہیں ہونا چاہتا بلکہ علاقائی تعاون کے ذریعے اپنے موقف کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

تاہم اس کے ساتھ استعمال ہونے والی سخت زبان اور جنگی بیانیہ کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔آبنائے ہرمز اس پورے بحران کا مرکزی محور بن چکی ہے۔ دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا مطلب ہے کہ عالمی معیشت کو فوری جھٹکا لگے گا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ مسئلہ اب کسی ایک ملک یا خطے کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

جب جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف تیل بلکہ خوراک، صنعتی اشیاء اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل پر بھی پڑتا ہے۔سمندری راستوں کی بندش کے بعد متبادل راستوں کا استعمال ایک نئی حقیقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ زمینی راستوں کے ذریعے سامان کی ترسیل میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف لاگت بڑھ رہی ہے بلکہ وقت بھی زیادہ لگ رہا ہے۔

جدہ بندرگاہ کا ایک نئے علاقائی مرکز کے طور پر ابھرنا اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے کہ موجودہ انفرا اسٹرکچر اس اضافی دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ نتیجتاً تاخیر، رش اور انتظامی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، جو عالمی سپلائی چین کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔اس صورتحال نے عالمی تجارتی نظام کی کمزوری کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ دہائیوں سے عالمی تجارت چند اہم راستوں اور بندرگاہوں پر انحصار کرتی رہی ہے، اور جب ان میں سے کسی ایک میں خلل پیدا ہوتا ہے تو پورا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنیا کو اپنی سپلائی چین کو زیادہ متنوع اور لچکدار بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ کسی ایک خطے میں بحران پیدا ہونے کی صورت میں پورا نظام متاثر نہ ہو۔امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کے نام سے متعلق تنازع نے اس بحران میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔

جغرافیائی ناموں کی اپنی تاریخی اور ثقافتی اہمیت ہوتی ہے، اور ان میں تبدیلی یا غلط پیشکش کو اکثر سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایران کا اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ یہ معاملہ صرف الفاظ کا نہیں بلکہ شناخت اور خودمختاری کا بھی ہے۔

ایسے اقدامات سفارتی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں اور مذاکرات کے امکانات کو کمزور کر سکتے ہیں۔خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں ایک طرف اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں تو دوسری طرف سلامتی کے خدشات سے بھی دوچار ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کا عندیہ اس کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، کیونکہ اس سے ایک وسیع تر علاقائی تصادم کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس تناظر میں ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جو مجموعی طور پر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

عالمی طاقتوں کا کردار بھی اس بحران میں انتہائی اہم ہے۔ ایک طرف امریکا اپنی بالادستی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف دیگر بڑی طاقتیں بھی اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ طاقتوں کا ٹکراؤ ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہا ہے جہاں چھوٹے ممالک کے لیے اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنا مزید مشکل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے۔مذاکرات کی ضرورت پر زور دینا ایک مثبت قدم ہے، لیکن یہ اسی وقت مو ثر ہو سکتا ہے جب تمام فریق سنجیدگی سے اس میں حصہ لیں۔

محض بیانات یا وقتی جنگ بندیوں سے مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ اس کے لیے اعتماد سازی، شفافیت اور باہمی احترام کی ضرورت ہے، اگر فریقین اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہیں گے تو مذاکرات محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جائیں گے۔پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال کئی حوالوں سے اہم ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ عالمی تجارتی نظام میں تبدیلیاں برآمدات اور درآمدات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سفارتی سطح پر بھی ایک متوازن پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی بڑے تنازع میں غیر ضروری طور پر ملوث ہونے سے بچا جا سکے۔اس بحران نے ایک اور اہم پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے، اور وہ ہے اطلاعاتی جنگ۔ مختلف بیانات، میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات نے حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ہر فریق اپنی کہانی کو اس انداز میں پیش کر رہا ہے جو اس کے مفادات کے مطابق ہو، جس سے عالمی عوام کے لیے حقیقت تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔

اس صورتحال میں ذمے دار صحافت اور مستند معلومات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ اس بحران کے انسانی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ یا اس کے خدشات ہمیشہ عام لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، اشیائے ضروریہ کی قلت اور عدم تحفظ کا احساس وہ عوامل ہیں جو معاشروں کو اندر سے کمزور کر دیتے ہیں۔ اگر یہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ماحولیاتی اثرات بھی اس بحران کا ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو ہیں۔ جنگی سرگرمیاں، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور متبادل راستوں کا استعمال ماحول پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

اس سے نہ صرف آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ قدرتی وسائل پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ موجودہ صورتحال ایک کثیر جہتی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں سیاسی، معاشی، عسکری اور سماجی پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کا حل بھی اسی وقت ممکن ہے جب ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی جائے۔ محض فوجی طاقت یا اقتصادی دباؤ سے مسائل کا حل نکالنے کی کوششیں عموماً الٹا اثر ڈالتی ہیں۔

&nbsp;وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریقین تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیں، اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں اور عالمی استحکام کو ذاتی یا قومی مفادات پر فوقیت دیں۔ بصورت دیگر یہ بحران نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک ایسے عدم استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/strait-of-hormuz1775697040-0/strait-of-hormuz1775697040-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>روس میں پابندی کی شکار فلم کا آسکر ایوارڈ امریکا میں غائب، وجہ بھی سامنے آگئی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811083/russian-ban-film-oscar-disappear-in-us-reason-revealed-2811083/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811083/russian-ban-film-oscar-disappear-in-us-reason-revealed-2811083/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 20:31:35 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811083</guid>
			<description>
				<![CDATA[روس میں اس فلم پر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے فروغ کی حامل قرار دے کر3 اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پابندی ہے، رپورٹ]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[روس میں پابندی کی شکار فلم &lsquo;مسٹر نوبڈی اگینسٹ پوٹن&rsquo; کو ملنے والا آسکر ایوارڈ امریکا کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر خطرناک قرار دیا گیا، جس کے بعد حیرت انگیز طور پر غائب ہوگیا تاہم ہنگامہ کھڑا ہونے کے بعد ایئرلائن نے برآمد کر لیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نیویارک ایئرپورٹ پر روس سے تعلق رکھنے والے آسکر ایوارڈ کے فاتح اداکار اور ہدایت کار پیول تالانکن کو ایوارڈ کی تلاشی پر مجبور کیا گیا، جس کے بعد ان کا آسکر غائب ہوگیا۔

پیول تالانکن نے بتایا کہ وہ بدھ کو امریکا سے جرمنی جانے والی پرواز میں آسکر ایوارڈ اپنےکیری آن بیگ میں رکھا تھا لیکن جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی نے انہیں روک لیا اور انہیں بتایا کہ یہ ایوارڈ بطور ہتھیار استعمال ہو سکتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ جرمنی پہنچے تو ان کی دستاویزی فلم مسٹر نوبڈی اگینسٹ پوٹن کے لیے ملنے والا آسکر ایوارڈ غائب تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایئرلائن نے تکلیف پہنچنے پر مالک سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ آسکر کا مجسمہ اب مل گیا ہے اور فرینکفرٹ میں ہماری تحویل میں محفوظ ہے اور بتایا کہ ایئرلائن اپنے مہمان کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے تاکہ مجسمہ جلد از جلد واپس کیا جا سکے اور ہمارے مہمانوں کے سامان کی محفوظ دیکھ بھال ہمارے لیے انتہائی اہم ہے اور مذکورہ واقعے کے حوالے سے محکمہ جاتی چھان بین کی جا رہی ہے۔

دستاویزی فلم کے شریک ہدایتکار ڈیوڈ بورینسٹین نے بتایا کہ وہ ہنگامہ خیزی کے بعد آسکر ایوارڈ کا مجسمہ مل جانے پر مطمئن ہیں اور کہا کہ انہوں نے بس ایک کمزور سا ڈبہ ڈھونڈا اور اسے کہا کہ اس میں رکھ دو حالانکہ سب لوگ کہہ رہے تھے یہ آسکر ہے، آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ خاصا بگڑ گیا تھا کیونکہ فلم کی ایگزیکٹو پروڈیوسر روبین ہیسمن فون پر تھیں اور ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن پر چلا رہی تھیں کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔

روبین ہیسمن نے بتایا کہ پیول تالانکن اس سال ملنے والے اپنے آسکر اور برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن دونوں ایوارڈز کے ساتھ امریکا اور بین الاقوامی پروازوں میں کئی بار سفر کر چکے ہیں لیکن کبھی بھی آسکر جہاز میں ساتھ لے جانے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا۔

بی بی سی کے مطابق ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایئرلائن لوفتھانسا کا عملہ ٹیپ اور ببل ریپ کی مدد سے آسکر کو ایک ڈبے میں پیک کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ 35 سالہ پیول تالانکن بہترین فیچر ڈاکیومنٹری جیتنے والی فلم کے شریک ہدایت کاراور مرکزی کردار بھی ہیں اور وہ اس ایوارڈ کو اکثر تقریبات اور اسکریننگز میں دکھانے کے لیے اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور نیویارک کے حالیہ دورے میں انہوں نے ایک یونیورسٹی میں سوال و جواب کے سیشن کے دوران طلبہ کے درمیان بھی اسے گھمایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایک اکیڈمی ایوارڈ کی لمبائی 13.5 انچ (34 سینٹی میٹر) اور وزن 3.9 کلوگرام ہوتا ہے، اور اس کی تیاری کی لاگت تقریباً 400 ڈالر سے 1000 ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔

پیول تالانکن نے آسکر جیتنے والی دستاویزی فلم مسٹر نوبڈی اگینسٹ پوٹن ایک روسی اسکول میں جنگی پروپیگنڈے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ریکارڈ کرتے ہوئے بنایا ہے، جہاں وہ روس کی یوکرین کے خلاف فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد بھی کام کرتے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس میں اسکول استاد کے طور پر کام کرنے والے 35 سالہ اداکار اب سیکیورٹی خدشات کے باعث روس سے جلاوطنی اختیار کر کے یورپ میں مقیم ہیں۔

روس نے مذکورہ دستاویزی فلم کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کی حامل قرار دے کر تین اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کردی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/oscar1777668215-0/oscar1777668215-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی میں بے روزگاری سے تنگ 2 بہنوں کے اکلوتے بھائی نے خودکشی کرلی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811081/26-year-old-man-committed-suicide-due-to-unemployment-2811081/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811081/26-year-old-man-committed-suicide-due-to-unemployment-2811081/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 19:40:51 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[منور خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811081</guid>
			<description>
				<![CDATA[متوفی کی شناخت 26 سالہ انس کے نام سے ہوئی، جو اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[شہر قائد کے علاقے لانڈھی میں معاشی ، مالی تنگدستی اور بیروزگاری سے دلبرداشتہ 2 بہنوں نے اکلوتے بھائی نے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی جبکہ پورٹ قاسم انڈسٹریل ایریا میں ایک شخص نے کمپنی کے تالاب میں چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ۔

تفصیلات کے مطابق لانڈھی کے علاقے چراغ ہوٹل کے قریب گھر سے نوجوان کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی جسے ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا&nbsp;جہاں متوفی کی شناخت 26 سالہ محمد انس ولد محمد فاروق کے نام سے کی گئی۔

ایس ایچ او لانڈھی صلاح الدین قاضی نے بتایا کہ متوفی یتیم اور 2 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا جس مکان میں وہ اپنی والدہ اور 2 بہنوں کے ساتھ رہتا تھا وہ کرایے کا ہے جبکہ متوفی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہوئی تھی جبکہ وہ کام کی تلاش میں بھی رہتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ روزگار کا کوئی مستقل حل نہیں نکل سکا،&nbsp; گھر کے معاشی اور مالی حالات سے تنگ متوفی کی والدہ نے انس کو کام نہ کرنے پر ڈانٹا تھا جس سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے کمرے میں جا کر گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی تاہم پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد متوفی کی لاش ورثا کے حوالے کردی۔

انس کی میت گھر پہنچے پر کہرام مچ گیا ماں اور دونوں بہنیں میت سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر روتی رہیں جبکہ اس موقع پر اہل محلہ کی بڑی تعداد بھی ان کے گھر جمع تھی اور واقعہ پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔

دوسری ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق بن قاسم کے علاقے پورٹ قاسم فوجی فرٹیلائزر کے قریب پانی کے تالاب میں ایک شخص ڈوب گیا جس کی اطلاع ملتے ہی واٹر ریسکیو ٹیم ایمبولینس کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئی اور سخت جدوجہد کے بعد تالاب میں ڈوبنے والے شخص کی لاش نکال کر ایدھی کے رضا کاروں کی مدد سے جناح اسپتال پہنچائی جہاں متوفی کی شناخت 39 سالہ عاشق علی کے نام سے کی گئی۔

اس حوالے سے ایس ایچ او فیصل رفیق نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق عاشق علی نے کمپنی کے تالاب میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی ہے جس کی فوٹیج بھی پولیس نے حاصل کرلی ہے جس میں عاشق علی کو تالاب میں چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے تاہم فوری طور پر خودکشی کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔

پولیس کے مطابق متوفی گلشن حدید کا رہائشی تھا جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/suicide1756246755-0/suicide1756246755-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی میں پانی کا بدترین بحران، پانی کی فراہمی مزید 4 دن متاثر رہنے کا خدشہ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811079/karachi-severe-water-crisis-supply-likely-to-disrupted-another-four-days-2811079/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811079/karachi-severe-water-crisis-supply-likely-to-disrupted-another-four-days-2811079/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 19:25:19 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[نعیم خانزادہ]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811079</guid>
			<description>
				<![CDATA[دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر لائنوں کے مرمتی کام کی وجہ سے 7 پمپس سے شہر کو پانی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے، ذرائع]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کراچی میں پانی کابدترین بحران جاری مختلف علاقوں میں گزشتہ 6 دن سے پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند ہے اور خدشہ ہے کہ مزید 3 سے 4 دن شہر میں پانی کی فراہمی متاثر رہے گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں بجلی کے بریک ڈاون کے باعث متاثر ہونے والی پانی لائنوں کا مرمتی کام تاحال مکمل نہیں ہوسکا، جس کے نتیجے میں شہر کو کروڑوں گیلن پانی فراہم نہیں کیا جا سکا اور مختلف علاقوں میں مکین پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔

متعلقہ حکام کی جانب سے لائنوں کے مرمتی کام میں تاخیر کے باعث کراچی میں پانی کا بحران بدترین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں 27 اپریل کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے بریک ڈاون کی وجہ سے پانی تین لائنیں پھٹ گئی تھی۔

بعد ازاں لائن نمبر 5 کا مرمتی کام مکمل کرلیا گیا لیکن تاحال 6 دن گزرنے کے باوجود لائن نمبر ایک اور لائن نمبر دو کا مرمتی کام مکمل نہیں&nbsp; ہوسکا، جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی بند ہے، متاثرہ علاقوں میں کورنگی، لانڈھی، گلستان جوہر، گلشن اقبال، لیاقت آباد، پی آئی بی کالونی، ناظم آباد، ملیر، شاہ فیصل کالونی، چنیسر گوٹھ سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔

ذرائع واٹر کارپوریشن کے مطابق دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر لائنوں کے مرمتی کام کی وجہ سے 7 پمپس&nbsp; سے شہر کو پانی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے جس کے باعث شہر میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اتوار تک امکان ہے کہ لائنوں کا مرمتی کام مکمل کر لیا جائے گا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے 24 گھنٹے بعد شہر میں پانی کی فراہمی معمول پر آنے کا امکان ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ آنے والے مزید تین سے چار دن شہر میں پانی کی فراہمی متاثر رہے گی۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/water-shortage1777422368-0/water-shortage1777422368-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے قانونی اور اتنظامی امور کیلیے کمیٹی تشکیل، نوٹیفکیشن جاری</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811078/islamabad-one-constitution-avenue-committee-forms-2811078/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811078/islamabad-one-constitution-avenue-committee-forms-2811078/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 14:04:54 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[عامر الیاس رانا]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811078</guid>
			<description>
				<![CDATA[وزیرقانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی جو 8 مئی کو وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی، تب تک کارروائی نہیں ہوگی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف نے&nbsp;&#39;ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو&#39; کے قانونی و انتظامی امور کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق&nbsp;ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو&#39; کا جائزہ لینے کیلیے&nbsp;وزیرقانون اعظم نذیر تارڑکمیٹی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اس کمیٹی میں&nbsp;وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری،&nbsp;کابینہ ڈویڑن اور کامرس ڈویژن کے سیکرٹری بھی بطور رکن شامل کیے گئے ہیں۔&nbsp; کمیٹی کے ٹی او آرز کے مطابق کابینہ ڈویڑن سیکریٹریٹ معاونت فراہم کرے گا۔

نوٹیفکیشن&nbsp;کمیٹی مختلف عدالتی فیصلوں کی روشنی میں &#39;ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو&#39; سے متعلق قانونی اور انتظامی امور کا جائزہ لے گی جبکہ&nbsp;رہائشیوں کے بیانات قلمبند کرنے کے ساتھ شکایات درج کرنے والوں کا مئوقف سنے گی۔

ٹی اوآرز کے مطابق&nbsp;کمیٹی عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مناسب راستہ تجویز کرے گی جبکہ&nbsp;رہائشیوں کے تحفظات کو منصفانہ اور متوازن انداز میں حل کرے گی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق&nbsp;&nbsp;کمیٹی ضرورت کے مطابق کسی اور رکن کو بھی شامل کر سکے گی جبکہ&nbsp;کمیٹی فوری طور پر کام شروع کرے گی اور 8 مئی 2026 کو اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم کے حتمی فیصلے تک سی ڈی اے، آئی سی ٹی انتظامیہ یا اسلام آباد پولیس کوئی جابرانہ کارروائی نہیں کریں گے۔&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/oneconstitutionavenue1777662968-0/oneconstitutionavenue1777662968-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>افغان طالبان فورسز کا سرحد پر معصوم شہریوں کو  نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، وزیراطلاعات</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811077/afghan-taliban-forces-target-common-people-unacceptable-information-minister-2811077/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811077/afghan-taliban-forces-target-common-people-unacceptable-information-minister-2811077/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 13:59:58 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811077</guid>
			<description>
				<![CDATA[فتنہ الخوارج نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے کرکٹ کھیلنے والے تین شہری زخمی ہوئے، وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے غیر انسانی اور پرتشدد سلسلے ناقابل قبول، مذموم اور انسانی جان کے حوالے سے ان کی وحشیانہ فطرت کا عکاس ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغانستان کی جانب سے سرحد پر شہری علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کو غیرانسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مکمل شکست کھانے اور ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہ رکھنے کے بعد شہری علاقوں کو نشانہ بنانا نہ صرف قابل نفرت ہے بلکہ یہ رجیم کے رہنماؤں کے پست اخلاقی کردار کو بھی آشکار کرتا ہے۔

&nbsp;عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے گزشتہ روز کے پریس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ صرف ضلع باجوڑ میں افغان طالبان اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ پراکسی فتنہ الخوارج کی جانب سے شہری آبادی کو بلا اشتعال اور مجرمانہ طور پر نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے 6 معصوم بچوں اور خواتین سمیت 9 شہری شہید ہوئے جبکہ 7 خواتین اور ایک کم عمر بچے سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ آج ایک مرتبہ پھر فتنہ الخوارج کی جانب سے کھلے عام اور شرم ناک انداز میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنانے کے نتیجے میں کرکٹ کھیلتے ہوئے تین شہری زخمی ہوئے، اس کے برعکس افغان طالبان رجیم کے نام نہاد نمائندے پاکستان پر شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے بے بنیاد اور لغو الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وضاحت اور شواہد سے یہ رپورٹ کیا جا چکا ہے کہ پاکستان صرف دہشت گردوں کے ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے، پاکستان افغان طالبان رجیم کے زیر کنٹرول علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور معاونت کرنے والے ڈھانچے کو جب بھی نشانہ بناتا ہے تو معلومات ہمیشہ فوری اور شفاف انداز میں عوام کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کے شہری نقصان سے بچنے کے لیے بھرپور احتیاط برتی جاتی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خارجی دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف پاکستان کی جنگ ہمیشہ سچائی، اصولوں، عزت، عزم اور ایمان پر مبنی رہی ہے جبکہ خارجیوں اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ سہولت کاروں کی ناپاک جنگ اور انجام شرم، فریب، لالچ اور برائی پر مبنی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/attaullah-tarar1769671332-0/attaullah-tarar1769671332-0.jpeg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی میں فوڈ ڈلیوری رائیڈرز پر تشدد کرنے والے دو ملزمان گرفتار</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811076/fir-lodge-against-torture-food-delivery-rider-2811076/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811076/fir-lodge-against-torture-food-delivery-rider-2811076/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 18:52:36 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[منور خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811076</guid>
			<description>
				<![CDATA[رائیڈر کی مدعیت میں ہوٹل مالک سمیت 10 سے 11 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[شہر قائد کے علاقے فیروز آباد میں آن لائن فوڈ ڈلیوری رائیڈرز کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق فیروز آباد پولیس نے آن لائن فوڈ ڈلیوری رائیڈر اور اس کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں ہوٹل کے مالک اور دیگر 10 سے 11 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا،&nbsp;پولیس نے 2 ملزمان کو بھی گرفتار کرلیا۔

مدعی مقدمہ محمد شہزاد نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ آن لائن فوڈ ڈلیوری رائیڈر اور یکم مئی کو شہید ملت روڈ ہل پارک چورنگی کے قریب ہوٹل پر آرڈر وصول کرنے پہنچا تو ہوٹل کے مالک علی نے مبینہ طور پر جان بوجھ کر آرڈر میں تاخیر کی۔

مدعی کے مطابق میں نے ہوٹل مالک کو کہا کہ ہمارے پاس 5 منٹ کا وقت ہوتا ہے آپ نے مجھ بیٹھا&nbsp;دیا ہے جس پر ہوٹل کا مالک مشتعل ہوگیا، پھر ہوٹل مالک&nbsp;علی اور اس کے 10 سے 11 دیگر اسٹاف نے مجھے لاتوں اور مکوں سے مار پیٹ شروع کر دی۔

اسی دوران وہاں سے گزرنے والے 2 فوڈ رائیڈر خالد اور سلیم بھی مجھے مار پیٹ کرتے ہوئے دیکھ کر میرے پاس آئے تو ہوٹل کے مالک اور اس کے دیگر ساتھوں نے انھیں بھی مارا پیٹا اور دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئیْ

پولیس کے مطابق مارپیٹ اور خوف و ہراس پھیلانے والے 2 ملزمان کامران اور احمد کو گرفتار کرلیا اور اس حوالے سے انویسٹی گیشن پولیس تفتیش کر رہی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/police-operation1770944368-0/police-operation1770944368-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی؛ مبینہ گھریلو تنازع پر بہنوئی نے کم عمر سالی کو قتل، ساس کو زخمی کردیا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811075/brother-in-law-allegedly-killed-his-underage-sister-in-law-over-a-domestic-dispute-and-injured-his-mother-in-law-2811075/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811075/brother-in-law-allegedly-killed-his-underage-sister-in-law-over-a-domestic-dispute-and-injured-his-mother-in-law-2811075/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 18:38:44 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[منور خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[جرائم]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811075</guid>
			<description>
				<![CDATA[کرائم سین یونٹ نے شواہد حاصل کیے ہیں جبکہ ملزم سے موقع سے فرار ہوگیا، ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن ممتاز مروت]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن یار محمد گوٹھ میں مبینہ گھریلو تنازع پر بہنوئی نے تیز دھار آلے کے وار سے کم سن سالی کو قتل اور ساس کو زخمی کر دیا۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے یار محمد گوٹھ میں گھر کے اندر تیز دھار آلے کے وار سے نوعمر لڑکی جاں بحق جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہوگئیں، مقتولہ کی لاش اور زخمی والدہ کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

جناح اسپتال میں مقتولہ کی شناخت 13 سالہ اقرا عبدالکریم اور ان کی والدہ کو 47 سالہ ارباب زادی کے نام سے شناخت ہوئی، زخمی خاتون کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن ممتاز مروت نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ گھریلو تنازع پر بہنوئی غلام محمد نے تیز دھار آلے کے وار کیے جس کے باعث کم سن سالی اقرا موقع پر جاں بحق ہوئیں جبکہ ان کی والدہ زخمی&nbsp; ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ&nbsp;کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد حاصل کیے گئے ہیں جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا ہے جس کی تلاش جاری ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/3-murders1776384220-0/3-murders1776384220-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>خیبرپختونخوا حکومت نے کلائمیٹ ایکشن بورڈ ترمیمی بل کی منظوری دے دی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811074/kp-govt-approved-climate-board-amendment-bill-2026-2811074/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811074/kp-govt-approved-climate-board-amendment-bill-2026-2811074/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 13:18:04 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[احتشام بشیر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811074</guid>
			<description>
				<![CDATA[وزیراعلیٰ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، اقلیتی فلاح،آبپاشی،صحت،تعلیم اور غذائی تحفظ سے متعلق کئی اہم فیصلوں کی منظوری]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[خیبرپختونخوا حکومت نے کلائمیٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے دی جس کے تحت ہنگامی صورتحال، بحالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس وزیراعلی&nbsp;سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہوا،&nbsp;جس میں وزرا، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور سرکاری محکموں نے سیکرٹریز نے شرکت کی۔

کابینہ کے حوالے سے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ نے ماحولیاتی تحفظ، اقلیتی فلاح، آبپاشی، صحت، تعلیم، بلدیات اور غذائی تحفظ سے متعلق کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے کلائمیٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے دی، جس کا مقصد خیبرپختونخوا کلائمیٹ کونسل کے ذریعے کلائمیٹ ایکشن بورڈ کی نگرانی اور مؤثر رہنمائی کو یقینی بنانا ہے۔

اس ترمیم کے تحت ہنگامی صورتحال، بحالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ متاثرہ علاقوں میں بروقت بحالی اور تعمیرِ نو ممکن بنائی جا سکے۔

معاون خصوصی شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے وزیراعلیٰ ڈیجیٹل انکلوژن پروگرام برائے اقلیتی طلبہ کے لیے 11 کروڑ 25 لاکھ روپے کے خصوصی گرانٹ کی منظوری دی۔

اسی طرح دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتوں کے لئے قائم انڈومنٹ فنڈ کی رقم 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 30 کروڑ روپے کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خصوصی رعایت دیتے ہوئے مردان، نوشہرہ اور ہری پور میں مختلف واقعات کے متاثرین کے لیے امدادی پیکج منظور کیا، جس کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 10 لاکھ روپے فی کس ادا کیے جائیں گے۔

کابینہ نے خیبرپختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 16 کروڑ 81 لاکھ روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ بہائی برادری کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ 1872 کے تحت دو میرج رجسٹرار مقرر کرنے اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے لیے مختلف کیڈرز کی چھ نئی آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی۔

شفیع جان کے مطابق کابینہ نے خیبرپختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے مالیاتی قواعد 2026، خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کے سروس رولز و ضوابط میں ترمیم اور مزید سکول لیڈرز کی کنٹریکٹ بنیادوں پر دوبارہ تعیناتی کی بھی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ سائنسز (فاؤنٹین ہاؤس) پشاور کو ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کا زیلی ادارہ قرار دینے کی منظوری دی۔

اسی طرح خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ پر تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی، کابینہ نے محکمہ زراعت کو مالاکنڈ ڈویژن میں ٹمپریٹ رائس ریسرچ اسٹیشن قائم کرنے کے لیے اراضی کی منتقلی کی بھی منظوری دی۔

شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے مینگورہ سوات میں میاں گل عبدالحق جہانزیب کڈنی اسپتال کو جدید کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر بنانے کے لیے 18 کروڑ روپے اضافی گرانٹ کی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے جدید طبی سہولیات فراہم ہوں گی اور مریضوں کو اپنے علاقے میں ہی گردوں کی پیوندکاری کی سہولت میسر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے عوام کو پیدائش، وفات، شادی، طلاق اور دیگر اہم اندراجات کی آن لائن رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ فراہمی کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کی منظوری بھی دی ہے۔

غذائی تحفظ کے حوالے سے شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے سرکاری شعبے سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے۔ گندم کی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی 40 کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ اس خریداری پر مجموعی طور پر 19 ارب 68 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی کابینہ کے 52ویں اجلاس کے اہم فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ نے ماحولیاتی تحفظ، اقلیتی فلاح، آبپاشی، صحت، تعلیم، بلدیات اور غذائی تحفظ سے متعلق کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/kpcabinet1777661298-0/kpcabinet1777661298-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی حراست سے رہا، ترکیے منتقل</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811073/former-senator-mushtaq-ahmad-khan-released-israeli-detention-2811073/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811073/former-senator-mushtaq-ahmad-khan-released-israeli-detention-2811073/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 12:57:10 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811073</guid>
			<description>
				<![CDATA[پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی بھرپور اور غیرمبہم حمایت جاری رکھے گا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ کے محصورین کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ذریعے انسانی امداد لے جانے والے کارکنوں سمیت غیرقانونی طور پر حراست میں لیے گئے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو قابض اسرائیلی فورسز سے آزاد کرادیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ &lsquo;الحمداللہ، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد کو رہا کر دیا گیا ہے جنہیں اسرائیلی قابض فورسز نے غیرقانونی طور پر گلوبل صمود فلوٹیلا سے انسانی امداد کے کارکنوں سمیت حراست میں لیا تھا&rsquo;۔

انہوں نے کہا کہ میں یونانی حکام کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے یونان کے شہر کریٹ میں سابق سینیٹر مشتاق احمد کے لیے سہولت فراہم کی اور ترک حکومت اور قیادت کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے استنبول منتقلی اور وہاں سے پاکستان واپسی کے لیے مدد فراہم کی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ وزارت خارجہ اور ایتھنز میں ہمارے سفارت خانے کے بھرپور کردار کو سراہتا ہوں۔

اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ فلوٹیلا کے کارکنوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں لینے اور غزہ کے محصور شہریوں کے لیے بھیجے گئے امداد کو روکنے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔

نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی بھرپور اور غیرمبہم حمایت جاری رکھے گا۔



Alhamdolillah, I am pleased to share that former Senator Mushtaq Ahmad Khan, who was unlawfully detained by Israeli occupying forces along with other humanitarian workers aboard the Global Sumud Flotilla, has been released.

I thank the Hellenic authorities for facilitating&hellip;
&mdash; Ishaq Dar (@MIshaqDar50) May 1, 2026


خیال رہے کہ اسرائیلی فورسز نے گزشتہ روز سینیٹر مشتاق احمد سمیت دنیا بھر سے انسانی بنیاد پر غزہ کے محصورین کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود سے حراست میں لے لیا تھا۔

صمود فلوٹیلا 22 کشتیوں پر مشتمل تھا، جس میں تقریباً 175 کارکنان سوار تھے، گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے اسرائیل کے غیرقانونی اقدام کو ڈاکا زنی قرار دیتے ہوئے مذمت کی تھی۔

منتظمین نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو غزہ سے 965 کلو میٹر دور غیرقانونی طور پر قبضے میں لیا ہے، یہ علاقہ اسرائیلی بحریہ کی ناکہ بندی کے زیر ہے۔

قبل ازیں غیرملکی میڈیا نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے سوائے دو افراد کے صمود فلوٹیلا کے دیگر ارکان کو کریٹ منتقل کرنے کے بعد رہا کردیا ہے، زیرحراست دونوں افراد کو پوچھ گچھ کے لیے روک دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے بتایا کہ زیرحراست افراد میں سیف ابو کیشک کو مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیم سے منسلک ہونے پر روکا گیا ہے اور دوسرے تھیاگو ایویلا کو مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں پر رہا نہیں کیا گیا ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت پر زور دیں&nbsp;کہ وہ دونوں افراد کو غیرقانونی قید سے رہا کرے۔

واضح رہے کہ سیف ابو کیشک فلسطینی نژاد ہسپانوی شہری ہیں اور وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے کلیدی ارکان میں سے ایک ہیں، جن پر اسرائیلی حکومت نے حماس کا کارکن ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

تھیاگو ایویلا سلوا برازیل کے مشہور انسانی حقوق اور موسمیاتی کارکن اور گلوبل صمود فلوٹیلا کے سرگرم رہنما ہیں، جنہیں اس سے قبل گزشتہ برس بھی غزہ کے محصورین کو امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود کے ارکان کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/senator-mushtaq1730114385-0/senator-mushtaq1730114385-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>امریکا نے ایرانی شہریوں، 21 کمپنیوں اور بحری جہاز پر پابندی عائد کردی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811072/usa-ban-on-irani-citizen-companies-and-ship-2811072/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811072/usa-ban-on-irani-citizen-companies-and-ship-2811072/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 12:48:21 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب  ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811072</guid>
			<description>
				<![CDATA[امریکا نے ایران پر سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے پابندیاں سخت سے سخت کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکا&nbsp;نے ایران کے خلاف اپنی پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے 6&nbsp;ایرانی شہریوں،21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعلان امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کیا گیا۔

جس میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات ایران کے مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورکس کو محدود کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ پابندیوں کا ہدف ایسے افراد اور ادارے ہیں جو مبینہ طور پر ایران کے حساس پروگراموں، بالخصوص توانائی اور ممکنہ طور پر جوہری یا عسکری سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے ذریعے ایران کی بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی کو مزید مشکل بنایا جائے گا اور اس کی اقتصادی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔

اس تازہ اقدام میں جس&nbsp;بحری جہاز پر پابندی عائد کی گئی ہے اُس پر الزام ہے کہ وہ ایران سے متعلق تجارتی یا توانائی کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا تھا۔

دوسری جانب امریکی وزارت خزانہ کے حکام نے یہ بھی عندیہ دیا&nbsp;کہ بعض چینی کمپنیوں اور افراد کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے&nbsp;تاہم اس حوالے سے مکمل تفصیلات&nbsp;جاری نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ امریکا کے ایران کے خلاف پابندیوں کے ایسے اقدامات ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں تاکہ ایران کی تیل کی برآمدات اور شپنگ نیٹ ورک کو محدود کیا جا سکے۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/usa-ban-on-irani-men-companies-and-ship1777658495-0/usa-ban-on-irani-men-companies-and-ship1777658495-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>آبنائے ہرمز پر ایران کو ٹول فیس دینے والی شپنگ کمپنیوں پر پابندی لگائیں گے؛ امریکا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811071/us-to-ban-shipping-companies-over-toll-fees-to-iran-2811071/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811071/us-to-ban-shipping-companies-over-toll-fees-to-iran-2811071/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 12:48:13 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب  ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811071</guid>
			<description>
				<![CDATA[امریکی وزارت خزانہ نے آج ہی 6 ایرانی شہریوں،21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز کو بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے۔]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکا نے ایک تازہ دھمکی میں خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہاز ایران کو ٹول فیس نہ دیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ&nbsp;آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ایران کو ٹول فیس ادا کرنے والی شپنگ کمپنی&nbsp;پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

امریکی محکمہ خزانہ کے&nbsp;بیان میں کہا گیا ہے کہ&nbsp;آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ٹول&nbsp;فیس لینے&nbsp;سے آگاہ ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی جیسی تنظیموں کو عطیات دینے والے اداروں پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔

خیال رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے آج ہی 6&nbsp;ایرانی شہریوں،21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز کو بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے۔

جن افراد،&nbsp;کمپنیوں اور تجارتی&nbsp;جہاز پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ&nbsp;ایران کے حساس پروگراموں بالخصوص توانائی اور ممکنہ طور پر جوہری یا عسکری سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/iran-toll-tax-in-crypto-currency-strait-of-hurmuz1775671735-0/iran-toll-tax-in-crypto-currency-strait-of-hurmuz1775671735-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>صدرمملکت کا دورہ چین، دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان معاہدے پر دستخط</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811070/president-visit-chian-contract-signed-2811070/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811070/president-visit-chian-contract-signed-2811070/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 12:29:19 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811070</guid>
			<description>
				<![CDATA[دونوں ممالک کے درمیان تعمیراتی مشینری، حیوانات کی صحت اور میڈیکل ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف معاہدوں پر دستخط کیے گئے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[صدر مملکت آصف علی زرداری کے دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان تعمیراتی مشینری اور میڈیکل ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں کے دو مفاہمتی یاد داشتوں اور ایک معاہدے پر دستخط ہوئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان اور چین کے اداروں کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتوں اور ایک معاہدے پر دستخط کی تقریب چین کے شہر سانیا میں منعقد ہوئی، جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے شرکت کی جہاں پاکستان اور چین کے درمیان 75 سالہ دوستی پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعمیراتی مشینری، حیوانات کی صحت اور میڈیکل ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف معاہدوں پر دستخط کیے گئے، الحسن ٹریڈ اسٹیبلشمنٹ، سینی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ اور ہینان جیالونگ انٹرنیشنل ٹیکنالوجی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت سہ فریقی تعاون کے ذریعے سی پیک سے متعلق تعمیراتی مشینری اور آلات کی فراہمی کو فروغ ملے گا اور پاکستان میں فیکٹریوں کے قیام کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

مذکورہ مفاہمتی یادداشت پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، نائب صدر سینی گروپ لی چن اور چیئرمین ہاؤ جیالونگ نے دستخط کیے۔

مزید برآں پاکستان میں حیوانات کی صحت کے لیے ویکسینز، خصوصاً منہ کھر کی بیماری کی ویکسین کی فراہمی کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کا معاہدہ بھی طے پایا، جس میں جانوروں کے لیے ٹریک اور ٹریس ایبلٹی سسٹمز کے نفاذ پر مستقبل کے تعاون کی شق بھی شامل ہے۔

اس معاہدے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور لوئیانگ ماڈرن بایولوجی گروپ کے چیئرمین وانگ شانپو نے دستخط کیے۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر ضیاالدین اسپتال اور شینزن وی بانگ ٹیکنالوجی کے درمیان میڈیکل ٹیکنالوجی کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد کلینیکل میڈیسن میں طبی ذہین روبوٹس کے جدید استعمال کو فروغ دینا ہے۔

اس مفاہمتی یادداشت پر ڈاکٹر ضیاالدین اسپتال کے ڈاکٹر انوپ کمار داوانی اور شینزن وی بانگ ٹیکنالوجی کے ڈپٹی جنرل منیجر مسٹر ڈینگ ہائی تاؤ نے دستخط کیے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/021777656686-0/021777656686-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ملک کے ہر مزدور کو دشمنوں سے معاشی جنگ لڑنا ہوگی؛ مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811069/iran-ayatollah-mujtaba-khamenei-labor-day-2811069/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811069/iran-ayatollah-mujtaba-khamenei-labor-day-2811069/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 12:06:05 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب  ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811069</guid>
			<description>
				<![CDATA[ملک میں تیار کی جانے والی اشیا کے استعمال کو ترجیح دی جائے تاکہ ملکی معیشت کو سہارا مل سکے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے یومِ مزدور کے موقع پر&nbsp;اپنے پیغام میں زور دیا ہے کہ دشمنوں کو&nbsp;مایوسی اور شکست دینے کے لیے ہر شخص کو معاشی جنگ لڑنا ہوگی۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سپریم لیڈر نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ ایران نے عسکری میدان میں اپنی صلاحیت اور ترقی کا دنیا کو ثبوت دے دیا&nbsp;تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اقتصادی اور ثقافتی محاذ پر بھی اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دشمنوں کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے خود انحصاری ناگزیر ہوچکی ہے۔ ملک میں تیار کی جانے والی اشیا کے استعمال کو ترجیح دی جائے تاکہ ملکی معیشت کو سہارا مل سکے۔

ایران کے&nbsp;رہبر اعلیٰ نے&nbsp;صنعتکاروں اور کاروباری افراد کو ہدایت کی کہ مشکلات کے باوجود محنت کشوں&nbsp;کو ملازمتوں سے فارغ کرنے سے حتی الامکان گریز کریں&nbsp;تاکہ معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو سخت معاشی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے&nbsp;جس کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

فروری سے جاری جنگ میں&nbsp;امریکا&nbsp;کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے نفاذ نے&nbsp;معیشت پر مزید دباؤ ڈالا ہے.

یاد رہے کہ آج ہی امریکا نے مزید ایرانی افراد،&nbsp;کمپنیوں اور ایک تجارتی جہاز کو بلیک لسٹ کردیا ہے جب کہ ایسے جہازوں کو بھی پابندیوں کی دھمکی دی ہے جو آبنائے ہرمز پر ایران کو ٹول ٹیکس دے رہے ہیں۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/iran-supreme-leader-mujtab-khamnei1777659896-0/iran-supreme-leader-mujtab-khamnei1777659896-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کریم آباد انڈر پاس ڈھائی سال کی تاخیر کے بعد ٹریفک کیلیے کھل گیا، کام اب بھی نامکمل ہونے کا انکشاف</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811068/karimabad-underpass-is-open-for-public-2811068/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811068/karimabad-underpass-is-open-for-public-2811068/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 17:01:32 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[نعیم خانزادہ]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811068</guid>
			<description>
				<![CDATA[سڑک بھی جگہ جگہ سے ناہموار اور انتہائی غیر معیاری تعمیر کی گئی جبکہ نکاسی کا نظام بھی اب تک نہیں ڈالا گیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[شہر قائد ضلع وسطی میں قائم کریم آباد پر تعمیر ہونے والے انڈر پاس کو ڈھائی سال کی تاخیر کے بعد ٹریفک کیلیے کھول دیا گیا تاہم اب بھی کام ادھورے رہے گئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق&nbsp;کریم آباد انڈرپاس مقرر وقت سے ڈھائی سال کی تاخیر کے بعد ٹریفک کیلیے کھول دیا گیا ہے، کام ادھورا ہے تاہم لائٹوں کا بہترین نمونہ پیش کیا گیا جس سے رات میں خوبصورت منظر پیش کیاجا رہا ہے۔&nbsp;عام تاثریہ ہے کہ عوامی دباو کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

کریم آباد انڈرپاس کا 30 دسمبر 2022 کو ادارہ ترقیات کراچی نے کام شروع کیا جس کی تخمینی لاگت ایک ارب 35 کروڑ روپے مقرر کی گئی جس کو ایک سال میں مکمل کیاجانا تھا۔

اس انڈر پاس کی لمبائی&nbsp;1.2 کلو میٹر ہے&nbsp;لیکن کے ڈی اے اس کو ایک سال میں مکمل نہیں کرسکا مسلسل تاخیر کی وجہ سے اس کی لاگت میں اضافہ ہوگیا اور منصوبہ 3ارب 80 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر سے کریم آباد حسین آباد کے تاجروں کا کاروباراور کراچی کی قدیم اسپورٹس کی مارکیٹ کا کاروبار بھی بری طرح متاثرہوا، اسی طرح مینا بازار کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔

اس کے علاوہ موسی کالونی کی مکینوں کو آمد ورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ساڑھے&nbsp; 3 سال رہا ، تاہم اب کریم آباد انڈر پاس کو ایٹ گرڈ کی تعمیر کے بغیر جلد بازی میں ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا،

کریم آباد انڈر پاس کی سڑک بھی جگہ جگہ سے غیر ہموار جبکہ سڑک انتہائی غیر معیاری تعمیر کی گئی، امکان ہے سڑک کو بہتر انداز سے تعمیر کیا جا ئے گا جبکہ ڈرینج کا سسٹم بھی مکمل طور اب تک نہیں ڈالا گیا لیکن انڈر پاس کے اندر اور پورے راستے میں لائنٹوں کا بہترین امتزاج &nbsp;نظر آرہا ہے جس سے انڈر پاس روشنی میں جگماما رہا ہے اور خوبصورت منظر پیش &nbsp;کرر ہے ہیں۔

انڈر پاس میں بہت ساکام باقی ہے امکان ہے کہ جلد اس کو بھی مکمل کر لیا جائے گا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/karimabadunderpass1777655939-0/karimabadunderpass1777655939-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>’دی راک‘ کا قانون کی سنگین خلاف ورزی پر چالان</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811067/the-rock-got-challan-2811067/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811067/the-rock-got-challan-2811067/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 16:56:04 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811067</guid>
			<description>
				<![CDATA[53 سالہ ہالی ووڈ اداکار پر لاس اینجلس میں ایک تقریب سے واپسی پر چالان کیا گیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ہالی ووڈ اداکار ڈیوائن &rsquo;دی راک&lsquo; جانسن کا قانون کی سنگین خلاف ورزی پر چالان کر دیا گیا۔

جمعرات کے روز لانس اینجلس میں ہالی ووڈ واک آف فیم تقریب سے واپسی پر 53 سالہ ڈبلیو ڈبلیو ای لیجنڈ اور ہالی ووڈ اداکار کو پولیس نے روک کر چالان جاری کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کو گاڑی کی کھڑکیاں ٹینٹڈ ہونے کی وجہ سے روکا۔

کیلیفورنیا میں ٹینٹڈ کھڑکیوں سے متعلق قوانین انتہائی سخت ہیں۔ قانون کے مطابق گاڑی کے سامنے کے حصے میں شیشوں کا کم از کم 70 فی صد شفاف ہونا ضروری ہے۔

گاڑی میں پیچھے لگا شیشہ ٹینٹڈ ہوسکتا ہے لیکن دونوں سائیڈ مررز کا ہونا ضروری ہے اور وِنڈ شیلڈ اوپر سے چار سے پانچ انچ ٹینٹڈ ہو سکتی ہے۔

پہلی بار خلاف ورزی کرنے پر 25 ڈالر جرمانہ اور خرابی فوراً ٹھیک کرنے کا حکم مل سکتا ہے، جبکہ دوسری بار یہی حرکت کرنے پر 200 ڈالر تک جرمانہ اور باقاعدہ چالان کر دیا جاتا ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/the-rock1777654744-0/the-rock1777654744-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایران کی بھجوائی گئی نئی تجویز سے مطمئن نہیں ہوں؛ صدر ٹرمپ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811066/donald-trump-unsatisfied-iran-new-proposal-2811066/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811066/donald-trump-unsatisfied-iran-new-proposal-2811066/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 11:54:51 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب  ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811066</guid>
			<description>
				<![CDATA[فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کیخلاف بھرپور طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، امریکی صدر]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ&nbsp;نے تصدیق کی ہے کہ انھیں حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق&nbsp;وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں&nbsp;صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انھیں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ براڈلے کوپر نے ایران سے متعلق فوجی حکمت عملی پر بریفنگ دی۔

امریکی صدر&nbsp;نے&nbsp;کہا کہ بریفنگ کے بعد ہمیں اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ آیا ایران کے خلاف بھرپور طاقت استعمال کی جائے یا مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔

صدرٹرمپ نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر وہ ایران پر حملہ نہیں کرنا چاہتے&nbsp;لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ایران&nbsp;جوہری ہتھیار بنالے اور دنیا کے لیے خطرہ بن جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی&nbsp;قیادت میں اختلافات ہیں اور مختلف دھڑے امریکا&nbsp;کے ساتھ مختلف نوعیت کے معاہدے چاہتے ہیں&nbsp;جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے ایسی شرائط پیش کی جا رہی ہیں جن سے وہ اتفاق نہیں کرسکتے&nbsp;جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ جلد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر&nbsp;جوزف عون سے ملاقات کے خواہاں ہیں اور دونوں رہنما امریکا&nbsp;آنے والے ہیں۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/donald-trump-attack1777172929-0/donald-trump-attack1777172929-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>آبنائے ہرمز کے مکمل کنٹرول کا حق فطری طور پر بھی صرف ہمارا ہے؛ ایران</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811065/iranian-official-says-strait-of-hormuz-is-tehrans-natural-right-2811065/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811065/iranian-official-says-strait-of-hormuz-is-tehrans-natural-right-2811065/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 11:05:36 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب  ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811065</guid>
			<description>
				<![CDATA[ایران آبنائے ہرمز اپنے مکمل کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ایران کی پارلیمان کے نائب اسپیکر علی نکزاد&nbsp;نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کا فطری حق&nbsp;ہے اور&nbsp;اپنے اس مؤقف پر پوری مضبوطی سے قائم ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی نائب اسپیکر نے مزید کہا کہ&nbsp;آبنائے&nbsp;ہرمز کو&nbsp;کسی بین الاقوامی راستے کے طور پر نہیں&nbsp;دیکھا جا سکتا کیوں کہ یہ صرف&nbsp;ایران کے اختیار میں آتی ہے۔

علی نکزاد نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران&nbsp;آبنائے ہرمز اپنے مکمل کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ہمارا جائز ہے اور ہم&nbsp;اپنے مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں&nbsp;گے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز&nbsp;دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے&nbsp;جہاں سے دنیا بھر میں&nbsp;تیل کی بڑی مقدار میں ترسیل ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس کی بندش&nbsp;نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

دوسری جانب امریکا نے بھی آبنائے ہرمز پر ایرانی بندرگاہوں اور وہاں جانے اور آنے والے تجارتی جہازوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

ایران اس ناکہ بندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جب کہ امریکا کی شرط ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرے اور یہیں پر جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/us-iran-ceasefire-talk-pakstan1776271859-0/us-iran-ceasefire-talk-pakstan1776271859-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811064/federal-finance-ministry-estimate-prove-wrong-inflation-21-month-high-2811064/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811064/federal-finance-ministry-estimate-prove-wrong-inflation-21-month-high-2811064/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 11:02:18 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ارشاد انصاری]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[بزنس]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811064</guid>
			<description>
				<![CDATA[وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی وزارت خزانہ کے تخمینے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[وفاقی وزارت خزانہ کے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے تخمینے غلط ثابت ہوگئے ہیں جہاں سالانہ بنیاد پر اپریل میں مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجٹ کے ساتھ 10.89 فیصد اور مہنگائی کی سالانہ شرح 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی وزارت خزانہ کے تخمینے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور اپریل 2026 میں مہنگائی میں 2.48 فیصد کے بڑے اضافے کے ساتھ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی شرح 10.89 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے ایک روز قبل جاری کردہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ میں حکومت نے اپریل میں مہنگائی 8 سے 9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کرائے 30 فیصد تک بڑھ گئے، ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں 7.63 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جلد خراب ہونے والی کھانے پینے کی اشیا 10.20 فیصد، ایک سال میں ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور گیس 16.84 فیصد، کپڑے اور جوتے سالانہ بنیاد پر 6.20 فیصد مہنگے ہوگئے ہیں اور سالانہ بنیاد پر ہوٹل ریسٹورنٹ چارجز میں 5.28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی سالانہ شرح 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اپریل میں ٹماٹر کی قیمت میں 57 فیصد سے زیادہ، سبزیوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئیں، انڈے 14 فیصد، پیاز 9 فیصد اور آلو 4 فیصد مہنگے ہوئے، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح چکن اور گوشت کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، چاول، دال ماش اور بیکری آئٹمز بھی مہنگے ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق گندم کی قیمت میں 9 فیصد کمی ہوئی، آٹے کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، مچھلی، تازہ پھل اور چینی سستی ہوئی، بیسن، دالیں اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

علاوہ ازیں مختلف ذاتی استعمال کی اشیا اور قالین سستے ہو گئے ہیں جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 38 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ سروسز 27 فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات 18 فیصد مہنگی ہوئیں، کرایوں اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/inflation1767302152-0/inflation1767302152-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>وفاق نے گیس فراہم نہ کی تو عوام کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811063/cm-kp-hint-to-protest-against-federal-govt-for-not-supply-gass-2811063/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811063/cm-kp-hint-to-protest-against-federal-govt-for-not-supply-gass-2811063/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 10:59:14 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811063</guid>
			<description>
				<![CDATA[گیس پیدا کرنے والے صوبے کو سپلائی نہیں دی جارہی،  سی این جی اسٹیشنز اور صنعتیں بند ہونے کے قریب پہنچ گئیں، سہیل آفریدی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ گیس کی&nbsp;اضافی پیداوار کے باوجود مقامی، کاروباری اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بند ہے جس کی وجہ سے صنعتیں بند ہونے کے قریب پہنچ گئیں ہیں۔&nbsp;

تفصیلات کے مطابق&nbsp;وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ&nbsp;آج کے اجلاس کا دوسرا مقصد صوبے کے حقوق پر ڈاکے اور وفاق کی جانب سے مسلسل ناانصافی کے خلاف لائحہ عمل طے کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا&nbsp;گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے&nbsp;کمرشل سرگرمیاں اور سی این جی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔&nbsp;

انہوں نے کہا کہ&nbsp;آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت قدرتی وسائل پر پہلا حق صوبے کا ہے مگر اس آئینی تقاضے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا،&nbsp;خیبر پختونخوا 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے مگر اس کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ&nbsp;خیبر پختونخوا اپنی ضرورت سے زائد 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس وفاق اور دیگر صوبوں کو فراہم کر رہا ہے،&nbsp;اضافی پیداوار کے باوجود مقامی، کاروباری اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بند ہے،&nbsp;وفاق کی جانب سے مسلسل امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ&nbsp;این ایف سی شیئر، بقایاجات، گندم، گیس اور بجلی سمیت متعدد شعبوں میں خیبر پختونخوا کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے،&nbsp;پنجاب کی جانب سے گندم کی فراہمی روکی گئی ہے جبکہ وفاق وسائل کی منصفانہ تقسیم میں ناکام رہا ہے،&nbsp;خیبر پختونخوا گیس، بجلی، معدنیات اور جنگلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر کے ملک کی خدمت کر رہا ہے لیکن اس کے ساتھ امتیازی رویہ رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ&nbsp;اگر گیس کا مسئلہ دو دن کے اندر حل نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت تمام سیاسی جماعتوں، عوام، بزنس کمیونٹی، تاجرون اور سرمایہ کاروں&nbsp;کے ساتھ مل کر بھرپور وفاق کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو صوبائی حکومت مزید سخت اقدامات اٹھائے گی۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/cmkpsuhailafridi1760342010-0/cmkpsuhailafridi1760342010-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ڈاؤن سنڈروم بچے کی گرفتاری کی دردناک ویڈیو وائرل</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811061/israeli-cops-in-jerusalem-reportedly-attack-and-detain-palestinian-teen-with-special-needs-2811061/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811061/israeli-cops-in-jerusalem-reportedly-attack-and-detain-palestinian-teen-with-special-needs-2811061/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 10:16:12 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب  ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811061</guid>
			<description>
				<![CDATA[اسرائیلی فوجیوں نے بندوق تانے اسپیشل چائلڈ کے پیچھے بھاگتے ہوئے اسے مجرموں کیطرح گرفتار کیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[مقبوضہ مشرقی یروشلم کے&nbsp;شفاعت پناہ گزین کیمپ&nbsp;میں ایک فلسطینی نوجوان کی&nbsp;گرفتاری اور تشدد کے&nbsp;واقعے&nbsp;کی ویڈیو نے اسرائیلی فوج کو بے نقاب کرکے رکھ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطینی میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ باوردی&nbsp;اہلکار بندوق تانے ایک نوجوان کے&nbsp;پیچھے&nbsp;دوڑ رہے ہیں اور اسے&nbsp;گرفتار کرلیتے&nbsp;ہیں۔

پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والوں نے بتایا کہ&nbsp;گرفتار کیے جانے والے نوجوان کی شناخت مہدی العربی&nbsp;کے نام سے ہوئی ہے جو&nbsp;ڈاؤن سنڈروم جیسے خصوصی ذہنی عارضے کا شکار ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کارروائی میں شامل اہلکار غالباً اسرائیلی بارڈر سے تعلق رکھتے تھے، جو مشرقی یروشلم میں باقاعدگی سے سیکیورٹی آپریشنز کرتے ہیں۔



A video shows Israeli soldiers chasing and detaining a Palestinian child with Down syndrome during a raid on the Shuafat Refugee Camp in Jerusalem. pic.twitter.com/KMWegBLwYK
&mdash; Ihab Hassan (@IhabHassane) April 30, 2026



وائرل ویڈیو میں&nbsp;اہلکاروں کو نوجوان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے دیکھا جا سکتا ہے&nbsp;تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں۔

اس ویڈیو پر انسانی حقوق کے حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے&nbsp;خاص طور پر اس پہلو پر کہ ایک اسپیشل&nbsp;چائلڈ&nbsp;کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک کیا گیا۔

تاحال اسرائیل کی بارڈر فورس یا ھکومت کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف یا وضاحت سامنے نہیں آئی&nbsp;جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ویڈیو اور دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

&nbsp;

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/untitled-11777649065-0/untitled-11777649065-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>پنجاب میں بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کیلیے مالی امداد فراہم کرنے کے پروگرام کا آغاز</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811060/punjab-govt-starts-another-milestoen-program-2811060/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811060/punjab-govt-starts-another-milestoen-program-2811060/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 10:10:34 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811060</guid>
			<description>
				<![CDATA[نواز شریف کی رہنمائی پر پروگرام شروع کیا، خواہش ہے پنجاب کا کوئی یتیم بچہ اور بیوہ خود کو بے سہارا نہ سمجھے، وزیراعلیٰ]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار &rdquo;وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ&ldquo; کے پروگرام کا آغاز کردیا گیا جس کے تحت 50 ہزار بیواؤں اور یتیم بچوں کو مالی امداد فراہم کی جائے گی،

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پاکستان کے پہلے رحمت کارڈ پروگرام کا ڈیجیٹل افتتاح کر دیا جبکہ&nbsp;معاون خصوصی راشد اقبال نصراللہ نے رحمت کارڈ پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ کے لئے صوبائی زکوٰۃ فنڈ سے 5000 ملین روپے کی ریکارڈ رقم مختص کی گئی ہے جو رحمت کارڈ کے ذریعے 50 ہزار بیواؤں اور یتیم بچوں میں فی کس ایک لاکھ روپے کے حساب سے فراہم کی جائے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رحمت کارڈ کے تحت شرعی طور پر زکوۃ کے مستحق مسلم بیوائیں اور یتیم بچے اہل ہوں گے،&nbsp;سرکاری ملازم یا پنشنر اور صاحب نصاب رحمت کارڈ کے ذریعے امداد کے حقدار نہیں ہوں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ&nbsp;وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ کے لئے موبائل ایپ کے ذریعے بھی اپلائی کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ&nbsp;ویب پورٹل (https//:rahmatcard.punjab.gov.pk) پر اپلائی کیا جاسکتا ہے۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شہریوں کی رہنمائی اور مدد کیلیے ہیلپ لائن 1077 بنائی گئی ہے جس پر رابطہ کر کے معلومات لی جاسکتی ہے،&nbsp;مستحقین کا انتخاب پنجاب سماجی و اقتصادی رجسٹری (PSER) کے ڈیٹا بیس کے ذریعے کیا جائے گا۔&nbsp;پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری (PSER) ڈیٹا بیس کے تحت ضلعی کوٹے کی بنیاد پر مستفید ہونے والوں کا حتمی انتخاب ہوگا۔&nbsp;

بریفنگ میں بتایا گیا کہ&nbsp;PSER میں رجسٹریشن نہ ہونے کی صورت میں درخواست دہندہ کے ڈیٹا کی نادارا سے تصدیق کی جائے گی جبکہ&nbsp;مالی امداد کی جاز کیش والٹ اکاؤنٹ کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی۔&nbsp;وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پر جاز والٹ اکاؤنٹ سروس چارجز حکومت ادا کرے گی۔&nbsp;

&nbsp;وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے رحمت کارڈ پروگرام کو شفاف، منصفانہ اور میرٹ کی بنیاد پر زکوٰۃ فنڈز کے استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ&nbsp;پروگرام کا مقصد مستحقین کے سماجی وقار اور معاشی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ&nbsp;رحمت کارڈ پراجیکٹ قائد محمد نواز شریف کی رہنمائی میں شروع کیا گیا، سلسلہ آگے بڑھائیں گے،&nbsp;خواہش ہے پنجاب میں کوئی بیوہ اور یتیم بچہ خود کو بے سہارااور بے بس محسوس نہ کرے۔&nbsp;روایتی سیاست کی بجائے عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2728698-maryamnawazcmpunjabxx-1729461943/2728698-maryamnawazcmpunjabxx-1729461943.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایران کیساتھ مذاکرات کے بارے میں صرف میں اور ایک دو لوگ جانتے ہیں؛ ٹرمپ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811059/trump-says-only-me-and-couples-of-others-know-about-iran-talk-2811059/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811059/trump-says-only-me-and-couples-of-others-know-about-iran-talk-2811059/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 09:46:12 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب  ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811059</guid>
			<description>
				<![CDATA[ایران کیساتھ جنگ بندی مذاکرات کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی جا رہیں، اصل پیش رفت خفیہ سطح پر ہو رہی ہے، ٹرمپ]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے&nbsp;کہا&nbsp;ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی اصل صورتحال سے صرف وہ خود اور چند دیگر لوگ&nbsp;ہی آگاہ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار&nbsp;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این&nbsp;سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس انٹرویو میں انھوں نے ایران جنگ بندی مذاکرات پر کھل کر اور تفصیلی گفتگو کی۔

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ&nbsp;سے&nbsp;یہ سوال کیا گیا کہ&nbsp;کیا وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ٹوٹنے کے خدشے پر بے چینی محسوس کر رہے ہیں&nbsp;تو انھوں نے اس تاثر کو یکسر مسترد کردیا۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ&nbsp;سوائے میرے اور چند ایک دیگر افراد کے کسی کو معلوم نہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کہاں تک پہنچے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی جا رہیں&nbsp;اور اصل پیش رفت خفیہ سطح پر ہو رہی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے، ایسا تاثر جا رہا ہے جیسے مذاکرات بالکل رک گئے ہیں اور یہ تاثر بالکل غلط ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات سے&nbsp;نشاندہی ہوتی&nbsp;ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی سطح پر سفارتی رابطے جاری ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا&nbsp;اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی تو قائم ہے&nbsp;لیکن مستقل امن معاہدے کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/iran1776867858-0/iran1776867858-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے 5 فیصد بڑھانے کا اعلان</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811058/goods-transport-alliance-announce-5-percent-increase-2811058/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811058/goods-transport-alliance-announce-5-percent-increase-2811058/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 09:43:33 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[آفتاب خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category><category><![CDATA[بزنس]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811058</guid>
			<description>
				<![CDATA[اگر وفاقی حکومت نے اپنی پالیسیوں پرنظرثانی نہیں کی تو پاکستان کی ٹرانسپورٹ کا پہیہ رک جائے گا، صدرگڈز ٹرانسپورٹ الائنس]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پاکستان گڈزٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے گڈزٹرانسپورٹ کے کرایے 5 فیصد بڑھانے کا اعلان کردیا۔

پاکستان گڈزٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ردعمل دیتے ہوئےکہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی پاکستان بھرکے ٹرانسپورٹرز شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور گڈز ٹرانسپورٹ کےکرائے 5 فیصد بڑھانے کا اعلان کرتےہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت ٹول ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت موٹروے اورٹریفک پولیس کے چالان ختم کرنے کا اعلان کرے، وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمارے ہزاروں ٹرانسپورٹرز گاڑیاں کھڑی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور گڈز ٹرانسپورٹرز کو کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا ہے، ٹرک ٹریلر کو جو 80 ہزار سبسڈی وفاقی حکومت کی طرف سے دی جا رہی ہے وہ انتہائی کم ہے۔

ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ہمارے ایک ٹریلرکے ایک چکر میں اخراجات کا اضافہ دو لاکھ ہوا ہے، ایک مہینے میں ہمارے ٹرک ٹریلر 4 ٹرپ لگا رہے ہیں اور 8 لاکھ ہمارے اخراجات میں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، ملک کے وسیع ترمفاد میں گاڑیاں نقصان میں چلا رہے ہیں، جنگی حالات سے ہمارا ٹرانسپورٹ کا کاروبار بہت متاثر ہے، اگر وفاقی حکومت نے اپنی پالیسیوں پرنظرثانی نہیں کی تو پاکستان کی ٹرانسپورٹ کا پہیہ رک جائے گا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/1178521-goodtransport-1526479322/1178521-goodtransport-1526479322.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>اسلام آباد؛ آن لائن بلیک میلنگ، خاتون کے جنسی استحصال میں ملوث ملزم گرفتار</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811057/islamabad-online-black-mailing-sexual-exploitation-suspect-arrest-2811057/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811057/islamabad-online-black-mailing-sexual-exploitation-suspect-arrest-2811057/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 14:23:54 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[صالح مغل]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[جرائم]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811057</guid>
			<description>
				<![CDATA[این سی سی آئی اے کی ٹیم نے ملزم کو اسلام آباد سے گرفتارکیا اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا، حکام]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) راولپنڈی نے آن لائن بلیک میلنگ اور خاتون کے جنسی استحصال میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔

حکام کے مطابق این سی سی آئی اے راولپنڈی کے سب انسپکٹر امجد بلال کی ٹیم نے ساہیوال سے تعلق رکھنے والے مشتبہ شہری عمیر ادریس کو چھاپہ مار کر اسلام آباد سے گرفتار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم نے جعلی انسٹاگرام آئی ڈی کے ذریعے جعلی نازیبا ویڈیوز تیار کرکے خاتون کو بلیک میل کیا، ویڈیوز کی بنیاد پر متاثرہ خاتون کو دھمکیاں دے کر ہراساں کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال بھی کرتا رہا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کی ٹیم نے ملزم سے 2 موبائل فون بھی برآمد کر کے ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ عدالت سے ملزم کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر امجد بلال تفتیش میں مصروف ہیں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے احسان اللہ چوہان کی ہدایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر مدثر شاہ کی نگرانی میں خواتین کے استحصال میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت این سی سی آئی اے متحرک ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/what-happens-after-you-are-arrested1765438191-0/what-happens-after-you-are-arrested1765438191-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>بھائی کے گھر پر ڈکیتی میں ملوث ماسٹر مائنڈ بہن سمیت 3 ملزمان گرفتار</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811056/lahore-house-robbery-case-solved-sister-and-2-suspects-involved-2811056/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811056/lahore-house-robbery-case-solved-sister-and-2-suspects-involved-2811056/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 14:01:02 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[سید مشرف شاہ]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811056</guid>
			<description>
				<![CDATA[پولیس نے لوٹا ہوا سامان اور واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں گھر میں ہونے والی ڈکیتی کا معمہ پولیس نے حل کرتے ہوئے بہن سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں ڈکیتی کی واردات ہوئی جس کا مقدمہ مالک کی مدعیت میں درج کر کے پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا۔

پولیس کے مطابق ڈکیتی کے کیس میں رشتے دار ہی ماسٹر مائنڈ نکلی جس نے اپنے 2 ساتھیوں کے ساتھ ملکر واردات انجام دیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق جامع تفتیش کے دوران متاثرہ خاتون کے قریبی رشتہ دار کا رویہ مشکوک پایا گیا، دورانِ انکوائری متاثرہ خاتون کی نند انعم شہزادی واردات کی ماسٹر مائنڈ ثابت ہوئی۔

ملزمہ نے اپنے ساتھیوں کو بلا کر خود اپنے بھائی کے گھر رابری کروائی، ملزمہ کی نشاندہی پر واردات میں ملوث دونوں ملزمان کو ٹریس کر کے، گرفتار کر لیا گیا، جن سے لوٹا ہوا سامان بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان سے واردات میں استعمال ہونے والا اسحلہ بھی برآمد کر لیا گیا جبکہ ملزمان کی شناخت انعم شہزادی، اشرف علی اور قاسم علی کے ناموں سے ہوئی۔

پولیس نے اس کیس کو 8 گھنٹے کے اندر حل کر کے ملزمان کو گرفتار اور سامان برآمد کر کے ملزمان کو انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کردیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بروقت کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی اور کہاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ لاہور پولیس کی اولین ترجیح ہے، لاہور پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف متحرک ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/houserobbery1777644659-0/houserobbery1777644659-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں غیرقانونی اپارٹمنٹس بنے، امیر، غریب کیساتھ یکساں سلوک ہوگا، طلال چوہدری</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811055/illegal-apartments-built-in-one-constitution-avenue-everyone-will-be-treated-equally-talal-chaudhry-2811055/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811055/illegal-apartments-built-in-one-constitution-avenue-everyone-will-be-treated-equally-talal-chaudhry-2811055/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 09:00:43 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811055</guid>
			<description>
				<![CDATA[پاکستان میں کہیں بھی تجاوزات یا ناجائز قبضہ ہو،  امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ قانون کے مطابق ایک جیسا سلوک کیا جائے گا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں 253 غیرقانونی اپارٹمنٹس بنائے گئے، پاکستان میں کہیں بھی تجاوزات یا ناجائز قبضہ ہو، چاہے امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ قانون کے مطابق ایک جیسا سلوک کیا جائے گا۔

اس معاملے پر ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ کسی کی پرائیویسی میں مداخلت نہیں کی گئی اور ریاست نے اپنے اس فیصلے کو عملی طور پر دہرایا کہ پاکستان میں کہیں بھی تجاوزات یا ناجائز قبضہ ہو، چاہے امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ قانون کے مطابق ایک جیسا سلوک کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ &rsquo;جب ریاست یہ فیصلہ کر ے کہ غریب ہو یا امیر، ریاست کی رٹ قائم ہو گی۔ پھر کسی کا ناجائز قبضہ ہو یا اس قسم کے محل و وقوع والی عمارت (ون کانسٹیٹیوشن ایونیو) پر تو ریاست ہی جیتتی ہے۔&lsquo;

طلال چوہدری نے کہا کہ اس عمارت کے رہائشیوں کو علم تھا کہ یہ متنازع ہے اور سب کو علم ہے کہ اس بلڈنگ کے رہائشیوں کو 2023 سے نوٹس جاری کیے گئے اور انھیں علم ہے تبھی ان اپارٹمنٹس میں سے بیشتر خالی ہیں۔

وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں 253 غیرقانونی اپارٹمنٹس بنائے گئے تھے جن میں سے 184 خالی ہیں جبکہ 69 اپارٹمنٹس میں لوگ موجود تھے اور کسی کی پرائیویسی متاثر نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے شاہراہ دستور پر موجود ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ خالی کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ رات گئے پولیس کے ذریعے عمارت کو خالی کرانے کے احکامات دیے گئے۔ سی ڈی اے نے2005 میں 13 ایکٹر پر مشتمل زمین لگژری ہوٹل کیلئے99 سالہ لیز پر ایک کمپنی کو دی تھی۔

ذرائع کے مطابق ون کانسٹیٹیوشن ایونیو عمارت میں اہم سیاسی شخصیات، بیورو کریٹس کے فلیٹس بھی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلڈنگ کی لیز منسوخی کے سی ڈی اے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے لیز منسوخی کے خلاف درخواستیں خارج کر دی تھیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر اعلی سطح کمیٹی تشکیل دے دی۔

وزیرِ قانون و وانصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری کابینہ اور کامرس سیکریٹری اس کمیٹی کے ارکان ہونگے۔

کمیٹی آئندہ ایک ہفتے میں پورے معاملے کا جائزہ لے کرے ایک جامع رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی.اس دوران اس معاملے میں کوئی بھی متاثرہ شخص اپنی معروضات کمیٹی کو پیش کر سکے گا اور کمیٹی بلا کسی تفریق کے فریقین اور متاثرین کو سنے گی۔

وزیراعظم کے اس معاملے پر حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی طرف سے کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔

وزیرِ اعظم نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی ہدایات جاری کی ہیں۔





اسلام آباد میں شاہراہ دستورپر کثیرالمنزلہ رہائشی عمارت کا کنٹرول پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے حاصل کرلیا۔

پولیس کی ٹیمیں عمارت کے داخلی راستوں پر تعینات کردی گئیں، اسلام آباد:پولیس نے رہائشیوں کو رات 12تک اپارٹمنٹس خالی کرنے کا حکم دیا۔

متعدد فلیٹس خالی کردیئے گئے،چند فلیٹس کے رہائشی سامان منتقل کررہے ہیں، شاہراہ دستورپر قائم کانسٹی ٹیشون ون بلڈنگ کے حوالے گزشتہ روزاسلام آبادہا ئیکورٹ نے فیصلہ جاری کیا تھا۔

رہائشی نے کہا کہ مسئلہ سی ڈی اے اور بلڈرکمپنی کاہے،ان سے پوچھاجائے، بلڈنگ کا نقشہ اوردیگردستاویزات سی ڈی اے نے پاس کیے، سی ڈی اے کی جانب سے این او سی کے بعد ہی اپارٹمنٹ خریدے۔



Constitution avenue one se police station one. ⁦@CMShehbaz⁩ pic.twitter.com/VdqoT9nENu
&mdash; Nadeem Afzal Chan (@NadeemAfzalChan) May 1, 2026


&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/oneconstitiiiion1777644630-0/oneconstitiiiion1777644630-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>پاک-ایران فضائی سفر بحال، 26 فروری کے بعد تہران سے پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811054/pak-iran-flights-restart-after-26-feb-2811054/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811054/pak-iran-flights-restart-after-26-feb-2811054/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 08:54:26 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811054</guid>
			<description>
				<![CDATA[مہان ایئر کی دو طرفہ پرواز 26 فروری کے بعد پہلی بار تہران سے پاکستان پہنچ گئی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ایران پر امریکا&nbsp;اور اسرائیل کے حملے کے 60 دن بعد پاک-ایران فضائی سفر بحال ہوگیا اور 26 فروری کے بعد پہلی بار تہران سے مہان ایئر کی دو طرفہ پرواز پاکستان پہنچ گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پرواز ڈبلیو 5184 پاکستان پہنچنے کے بعد واپس تہران گئی، اس روٹ پر مہان ایئر کی اگلی پرواز 7 مئی کو طے ہیں۔

دریں اثنا بحرین سے دو ماہ بعد گلف ایئر کی پہلی پرواز کی کراچی آمد اور روانگی&nbsp;ہوئی، اس سے قبل بحرین سے گلف ایئر کی آخری پرواز 28 فروری کو کراچی آئی تھی۔&nbsp;

خیال رہے کہ ایران-امریکا جنگ کے باعث بحرین کا فلائٹ آپریشن 50 دن معطل رہا۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایئر بس اے 321 طیارہ پرواز جی ایف 752 کے طور پر کر کراچی پہنچا جبکہ پرواز جی ایف 751 محدود مسافر لے کر کراچی سے بحریں روانہ ہوگئی۔

ذرائع نے بتایا کہ بحرین ایئرپورٹ کا فلائٹ آپریشن یومیہ 82 پروازوں سے تجاوز کرگیا ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/011777644432-0/011777644432-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>حیدرآباد کنگز مین کی سنسنی خیز مقابلے کے بعد اسلام آباد کیخلاف فتح، فائنل میں رسائی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811053/eliminator-2-hkm-iu-2811053/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811053/eliminator-2-hkm-iu-2811053/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 13:36:23 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کھیل]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811053</guid>
			<description>
				<![CDATA[دوسرے ناک آؤٹ مقابلے میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 184 رنز بنا سکی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 میں حیدرآباد کنگزمین نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 رنز سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنالی۔

قذافی اسٹیڈیم لاہو ر میں کھیلے گئے دوسرے ناک آؤٹ مقابلے میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 184 رنز بنا سکی۔

یونائیٹڈ کی جانب سے مارک چیپمین 43 رنز بنا کرنمایاں رہے۔ حیدر علی 31، ڈیوون کونوے30، کپتان شاداب خان 22، فہیم اشرف 19، سمیر منہاس 6 اور محسن ریاض 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

کرس گرین 21 اور عماد وسیم 1 کے انفرادی اسکور پر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔

حیدرآباد کنگز مین کی جانب سے حنین شاہ اورمحمد علی نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔حسان خان، صائم ایوب اور عاکف جاوید &nbsp;نے 1، 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے حیدرآباد کنگز مین نے عثمان خان اور کوشل پریرا کی شاندار 101 رنز کی شراکت کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 186 رنز اسکور کیے۔

کنگز مین کی جانب سے عثمان خان نے 61 رنز کی شاندار ناٹ آؤٹ باری کھیلی۔ کوشل پریرا 37 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

دیگر بلے بازوں میں کپتان مارنس لبوشین 39، صائم ایوب 38، گلین میکسویل 3 اور معاذ صداقت 0 کے انفرادی اسکور پر پویلین لوٹے۔

یونائیٹڈ کی جانب سے عماد وسیم نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ کرس گرین، رچرڈ گلیسن اور فہیم اشرف نے 1، 1 وکٹ حاصل کی۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/match1777658121-0/match1777658121-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>امریکا-ایران جنگ کے باعث مہنگائی میں اضافہ سمیت سنگین خطرات کا سامنا کرنا ہوگا، آئی ایم ایف</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811052/imf-warned-us-iran-war-inflation-serous-risks-2811052/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811052/imf-warned-us-iran-war-inflation-serous-risks-2811052/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 08:34:16 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ارشاد انصاری]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[بزنس]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811052</guid>
			<description>
				<![CDATA[تیل درآمد کرنے والے ممالک کو توانائی و خوراک کی بڑھتی قیمتیں اور سخت مالیاتی حالات جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہوگا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ امریکا-اسرائیل-ایران جنگ خطے کی معاشی ترقی کو نمایاں طور پر سست کر دے گی اور پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو توانائی و خوراک کی بڑھتی قیمتوں، ترسیلات زر میں ممکنہ کمی اور سخت مالیاتی حالات جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہوگا۔

پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندہ ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) میں منعقدہ ایک خصوصی نشست سے خطاب کیا اور آئی ایم ایف کی اپریل 2026 کی علاقائی اقتصادی جائزہ رپورٹ بھی پیش کی۔

ڈاکٹرماہیر بینیجی نے بتایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ نے ایک شدید اور ہمہ جہتی معاشی جھٹکا دیا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی منڈیاں، تجارتی راستے اور مالیاتی حالات متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات کے باعث عالمی ترسیل کے نظام، خوراک اور کھاد کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس سے خطے میں معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور مزید تنزلی کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ تنازع پہلے سے موجود معاشی کمزوریوں کو مزید بڑھا رہا ہے۔

ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے زور دیا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سبسڈیز کے بجائے ہدفی اور عارضی اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی مجموعی طور پر درست سمت میں جاری ہے اور واضح کیا کہ پاکستان کے لیے پالیسی ترجیحات میں محتاط مالیاتی حکمت عملی، اعداد و شمار کی بنیاد پر سخت مانیٹری پالیسی اور ساختی اصلاحات کا تسلسل شامل ہونا چاہیے۔

اس موقع پر انہوں نے معیشت کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے کے لیے تجارتی راستوں میں تنوع، اہم بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، علاقائی تعاون کے فروغ اور نجی شعبے کی قیادت میں جامع ترقی یقینی بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحات کے عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ناگزیر ہے تاکہ پاکستان تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں استحکام برقرار رکھتے ہوئے مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔

قبل ازیں آ ئی ایم ایف کے نمائندے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سربراہ اکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ اس نشست کا مقصد بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورت حال اور اس کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا جائزہ لینا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اگلی قسط فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کے جائزے سے مشروط ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات، خصوصاً کیپیسٹی پیمنٹس سے متعلق مذاکرات اور قابل تجدید توانائی کے استعمال میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پالیسی سطح پر بروقت اور ہدفی اقدامات ناگزیر ہیں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/IMFDeal1729803987-0/IMFDeal1729803987-0.png" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایران نے مذاکرات کیلیے نیا مسودہ پاکستان کے ذریعے امریکا بھجوادیا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811050/iran-handover-mediation-proposal-to-talk-us-to-pakistan-2811050/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811050/iran-handover-mediation-proposal-to-talk-us-to-pakistan-2811050/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 07:57:12 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب  ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811050</guid>
			<description>
				<![CDATA[ایران نے پاکستان کو جنگ بندی مذاکرات پر نیا مسودہ گزشتہ شام دیا تھا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجاویز کا مسودہ ثالثی کے لیے پاکستان کو بھیج دیا۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق اپنی نئی تجاویز جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے&nbsp;کی&nbsp;ہیں۔

اب یہ تجاویز پاکستانی حکومت امریکا کو ارسال کرے گی جس کے بعد ان کا جواب دیکھا جائے گا اور آنے والا جواب واپس ایرانی حکومت کو بھیجا جائے گا۔



#ایران متن تازه&zwnj;ترین طرح مذاکراتی را به #میانجی_پاکستانی داد

ایران متن طرح مذاکراتی خود را شامگاه پنجشنبه ۱۰ اردیبهشت به #پاکستان به عنوان میانجی مذاکره با #ایالات_متحده، تحویل داده است. https://t.co/UaevvjflIy pic.twitter.com/AoeOYVgJFt
&mdash; خبرگزاری ایرنا (@IRNA_1313) May 1, 2026


اس حوالے سے تاحال فریقین کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور نہ اس نئے مسودے سے متعلق کوئی معلومات مل سکی ہیں۔

تاہم ایک امریکی خبر رساں ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی اس نئی تجویز میں&nbsp;مرحلہ وار امن عمل کی بات کی گئی&nbsp;ہے، جس میں پہلے جنگ بندی کو مستحکم کرنا، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، اور بعد ازاں پیچیدہ معاملات جیسے جوہری پروگرام کو زیر بحث لانا شامل ہو سکتا ہے۔&nbsp;

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے&nbsp;اس پورے عمل میں پاکستان کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کروا رہا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ&nbsp;پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے&nbsp;تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقین کو بڑے سمجھوتے کرنا ہوں گے۔

رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ&nbsp;امریکا&nbsp;نے بعض ایرانی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا&nbsp;خاص طور پر اس بات پر کہ ایران جوہری پروگرام کے مسئلے کو فوری طور پر زیر بحث لانے کے بجائے مؤخر کرنا چاہتا ہے۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ جوہری پروگرام پر یہی اختلافات اب تک کسی جامع امن معاہدے میں بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔

&nbsp;

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/iran-us-talk-in-islamabad1777055951-0/iran-us-talk-in-islamabad1777055951-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>باجوڑ میں دہشت گردوں کا کرکٹ گراؤنڈ پر کواڈ کاپٹر سے حملہ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811049/quadcopter-attacks-cricket-ground-in-bajaur-three-injured-2811049/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811049/quadcopter-attacks-cricket-ground-in-bajaur-three-injured-2811049/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 07:50:58 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[اسٹاف رپورٹر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811049</guid>
			<description>
				<![CDATA[تین افراد زخمی، دہشت گردوں نے دانستہ طور پر اس وقت حملہ کیا جب کرکٹ گراؤنڈ میں  کھیل جاری تھا، ذرائع]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[باجوڑ کے ایک کرکٹ گراؤنڈ پر دہشت گردوں نے کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال جارحیت، خیبرپختونخوا کی شہری آبادی پر بزدلانہ حملوں کا تسلسل جاری ہے، باجوڑ کے علاقے ماموند کی تحصیل شاہی تنگی میں کرکٹ گراؤنڈ پر کوڈ کاپٹر کے ذریعے ایک حملہ کیا گیا جس میں تین افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوار ج نے دانستہ طور پر اس وقت حملہ کیا جب &nbsp;کرکٹ گراؤنڈ میں &nbsp;کھیل جاری تھا۔

واضح رہے کہ&nbsp;فتنہ الخوارج اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور عوام میں خوف و دہشت پھیلانے &nbsp;کیلیے کواڈ کاپٹرز کا عام عوام پر استعمال کرتے ہیں جس کے کئی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔

ڈپٹی کمشنر باجوڑ کی حالیہ پریس ریلیز کے مطابق&nbsp;مارچ اور اپریل 2026ء کے دوران افغانستان کی جانب سے باجوڑ کے مختلف سرحدی علاقوں میں بالخصوصی ماموند اور سلارزئی میں ماٹر گولے فائر کیے گئے،&nbsp;افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر فائرنگ سے حالیہ دنوں میں 9 افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں 3 خواتین اور 6 معصوم بچے شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق&nbsp;فتنہ الخوارج &nbsp;نہتے عوام کو اس لیے نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں، شہری آبادی کو مسلسل نشانہ بنانے کی وجہ سے عوام کے اندر فتنہ الخوارج کے لیے نفرت گہری اور شدید ہوتی جا رہی ہے،&nbsp;سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے حملوں کا موثر اور بھرپور جواب دیا جا رہاہے ،&nbsp;سیکیورٹی فورسز صرف خوارج اور افغان طالبان کی پوسٹوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتی ہیں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2682331-quadcopter-1723184172/2682331-quadcopter-1723184172.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>عمر گل کا حیدرآباد کنگز مین سے متعلق بڑا بیان!</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811048/umer-gul-on-hkm-2811048/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811048/umer-gul-on-hkm-2811048/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 12:47:18 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[زبیر نذیر خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کھیل]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811048</guid>
			<description>
				<![CDATA[حیدرآباد کنگز مین اور اسلام آباد یونائیٹڈ پی ایس ایل 11 کے دوسرے ایلیمنیٹر میں قذافی اسٹیڈیم میں مدِ مقابل ہوں گی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر اور پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے بولنگ کوچ عمر گل نے کہا ہے کہ پی ایس ایل 11 کے ایلیمنیٹر ٹو میں حیدرآباد کنگز مین اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔

عمر گل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کی شب قذافی اسٹیڈیم، لاہور میں حیدرآباد کنگز مین اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان دلچسپ مقابلہ متوقع ہے، حیدرآباد کنگز مین مسلسل چار شکستوں کے بعد زبردست انداز میں کھیل میں واپس آئی ہے اور اس کا اچھا مومنٹم بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی ایک کھلاڑی کی اچھی کارکردگی سے بھی ٹیم پر بہترین اثرات مرتب ہوتے ہیں، بیٹنگ میں بھی اچھی کارکردگی کے ساتھ حیدرآباد کنگز مین کی بولنگ بھی بہتر ہو گئی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/umer1777639849-0/umer1777639849-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>راولپنڈی: سابق ڈی آئی جی پولیس کا ڈرائیور پراسرار حالات میں اغوا کرلیا گیا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2811047/rawalpindi-former-dig-police-driver-kidnapped-under-mysterious-circumstances-2811047/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2811047/rawalpindi-former-dig-police-driver-kidnapped-under-mysterious-circumstances-2811047/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 01 May 26 07:23:07 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2811047</guid>
			<description>
				<![CDATA[پولیس نے مقدمہ درج کرلیا  ایک ہفتہ سے زاہد گزرنے کے باوجود سراغ نہ لگایا جاسکا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[راولپنڈی کے تھانہ وارث خان کے علاقے سے سابق ڈی آئی جی پولیس چودہری عارف کا ڈرائیور پراسرار حالات میں اغوا کرلیا گیا۔پولیس نے مقدمہ درج کرلیا &nbsp;ایک ہفتہ سے زاہد گزرنے کے باوجود سراغ نہ لگایا جاسکا۔

پولیس کی مطابق مغوی کے ماموں محمد اعظم &nbsp;نے بتایاکہ بھانجا محمد امین 8 ماہ سے سابق ڈی آئی جی پولیس چودھری عارف کے ساتھ بطور ڈرائیور ڈیوٹی کررھا ہے 22اپریل کو سابق ڈی آئی جی کو چھوڑنے ائیرپورٹ گیا۔

واپس آکر گاڑی لیاقت باغ کے سامنے نجی ہوٹل کے قریب کھڑی کرگیا بھانجا محمد امین گاڑی پارک کرنے بعد اسی وقت رکشے پر بیٹھ کر مری روڈ گیا جسکے بعد سے اسکا کچھ معلوم نہیں۔

بھانجے کا موبائل فون بھی بند ہے، تلاش کرنے پر &nbsp;بھی کچھ پتہ نہیں چلا،&nbsp;پولیس حکام کا کہنا تھا کہ سابق ڈی آئی جی کی ڈرائیور کے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تلاش میں مصروف ہیں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/man-kidnape-in-baluchistan1774496028-0/man-kidnape-in-baluchistan1774496028-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item>	</channel>
                </rss>
