دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا، گیا دور گراں خوابی
عروقِ مردِ مشرق میں ہے خونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی
سرشکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کا دریا ہے، سمندر سے گہر پیدا
کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
جہاں پانی سے دشوار تر ہے کارِ جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک
ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہربانی
دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام
زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی
مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی
اگرچہ ایک ہی صورت رہی شمعِ سیال
مگر جلوے کا ہے پیدا شرارے سے فروغ اپنا
خدائے لم یزل کا دست قدرت تجھ سے بھوپال ہے
ذرا تقدیر کو اپنا محرک دیکھ تو نے کیا کیا
یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی
مرا عبرت کا دفتر ہے، یہی دریا، یہی سیل ہے
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی
دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام
زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی
مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی
دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا، گیا دور گراں خوابی
عروقِ مردِ مشرق میں ہے خونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی
سرشکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کا دریا ہے، سمندر سے گہر پیدا
کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
جہاں پانی سے دشوار تر ہے کارِ جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک
ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہربانی
دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام
زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی
مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی
اگرچہ ایک ہی صورت رہی شمعِ سیال
مگر جلوے کا ہے پیدا شرارے سے فروغ اپنا
خدائے لم یزل کا دست قدرت تجھ سے بھوپال ہے
ذرا تقدیر کو اپنا محرک دیکھ تو نے کیا کیا
یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی
مرا عبرت کا دفتر ہے، یہی دریا، یہی سیل ہے
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی
دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام
زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی
مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی